Breaking News

یہ وہ تسبیح ہے جس کی وجہ سے تمام مخلوقات کو رزق ملتا ہے

مال و دولت کی بر سات کا وظیفہ ، غربت سے تنگ افراد یہ وظیفہ لازمی کر یں اور دولت و رزق کی بارش ہوتے ہوئے دیکھیں۔ حضرت محمد ﷺ کا فر ما ن ہے: ” جس شخص کے سامنے میرا ذکر ہو اُسے چاہیے مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فر ما تا ہے ” بہت ہی مجرب اور آ زمودہ وظیفہ لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں جس کی برکت سے اور اللہ کے فضل و کرم سے غربت و افلاس اور تنگ دستی کا جڑ سے خاتم ہوگا۔ ایک صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی ہے۔

اتنا ہی تنگدست ہو گیا ہوں کہ میں بیان نہیں کر سکتا تو نبی ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ کیا تمہیں وہ ملا ئکہ والی تسبیح یاد نہیں صحابی نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ کو نسی؟ آ پﷺ نے فر ما یا کہ جس سے خلق میں رزق تسیم کیا جاتا ہے اور اگر تم اس تسبیح کا ورد شروع کر دو تو دنیا تمہارے پاس ذلیل ہو کر آ ئے گی۔ دیکھا آپ نے یہ کتنا طاقتور وظیفہ ہے۔ یہ میرا یا کسی اور کا بتایا ہوا عمل نہیں بلکہ سرورِ کا ئنات حضور ﷺ کا بتا یا ہوا عمل ہے آپ اس تسبیح کا وظیفہ کر یں اور پھر اسکے کما لات دیکھیں۔ عمل اور ضروری ہدایات: یہ وظیفہ آپ نے نماز عصر کے بعد کر نا ہے۔ اس تسبیح کو سو مرتبہ پڑ ھنا ہے اور تین مرتبہ پہلا کلمہ پڑ ھنا ہے تین بار درودِ پاک پڑ ھنا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کر نی ہے ۔ اس عمل کو گیارہ روز تک کر نا ہے ۔ ان شاء اللہ اس تسبیح کی برکت سے اللہ آ پکو اتنا رزق عطا کرے گا کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی اللہ رب العزت آپ پر دولت و رزق کی ایسی بارش بر سائے گا کہ ساری زندگی بھی بیٹھ کر کھا ؤ گے تو ختم نہ ہونے پائے گا۔ اگر آپ اپنے لیے دُعا مانگنے سے پہلے دوسروں کے لیے دُعا مانگیں گے تو ان شاء اللہ آپ کی دُعا ضرور قبول ہو گی۔ وظیفہ کر نے سے پہلے پہلے کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کر یں۔ ہر وظیفہ انسان کی بہتری اور انسانی کی آسانی کے لیے ہی ہوتا ہے اور یہ بھی بتا تا چلوں کہ ہر وظیفہ انسان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بہت ہی اہم تحفہ اورعنایت ہے۔ تو اس تحفے کی ہمیں قدر کر نی چاہیے اور کوئی بھی وظیفہ کسی بھی قسم کا وظیفہ کر نے سے پہلے ہمیں یقین ہو نا چاہیے کہ ہمیں اس وظیفے سے اس عمل سے ضرور فائدہ ہو گا اللہ تعالیٰ کی عنایت کی بدولت

About admin

Check Also

کوفہ میں ایک خوبصورت نوجوان ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتا

حضرت احمد بن سعید رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد محترم سے نقل کرتے ہیں۔ ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *