Breaking News

ہاتھوں کا سن ہونا اورانگلیوں میں درد

ہمارے ہاں خاص طور پر خواتین ، مردوں میں بھی زیادہ  تر خواتین  میں ایک شکایت آتی ہے کہ ہاتھ سن ہوجاتے ہیں اور یہ جو سن ہونا ہے یہ خاص طور پر رات کے وقت ہوتا ہے۔ جب رات کو سوتے ہیں ۔ توآدھی رات کو میرا ہاتھ سن ہوجاتا ہے۔ پھر اٹھتی ہوں۔ تو ہاتھ کو ہلاتی رہتی ہوں۔ تو وہ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اب ہاتھوں کے سن ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن آج جس کی بات کررہے ہیں اسے ہم سی ۔ٹی ۔ ایس(کارپل ٹرنل سینڈروم)۔ اب اس میں دو چار چیزیں یادرکھنے والی  ہیں۔ پہلی یاد رکھنے والی چیز ہے ہماراجو ہاتھ ہےاس کی ایک نرو ہوتی ہے جو ہاتھ کے نچلے کے درمیان حصے سے ہمارے انگوٹھے ، پھر انگلی کو، پھر درمیانی انگلی ، اور اس کے ساتھ والی انگلی کو آدھی سپلائی کرتا ہے۔ جن کو  لوگوں کو بھی سی ۔ٹی ۔ایس ہوتا ہے ۔ رات کو جیسا کہ ان کو لگتا ہے کہ ہاتھ سن ہوگیا۔ جب وہ غور سے دیکھیں گے  کہ ان کو لگے گا۔ یہ تین انگلیاں اور آدھی انگلی سن نہیں ہوتی۔

اور چھوٹی انگلی عام طور پر سن نہیں ہوتی۔ اور اس کو ہونا بھی نہیں چاہیے۔  کیونکہ اس کی نرو سپلائی مختلف ہے۔ یہ جو نرو دبتی ہے۔ و ہ ہاتھ  کے نچلے حصے کے درمیان میں دبتی ہے۔ وہ اس لیے دبتی ہے۔ یہاں پر ایک بینڈ ہوتا ہے۔ اور اس بینڈ  کے نیچے سے وہ نرو گزر  رہی ہوتی ہے۔ جس کو ہم میڈیم نرو کہتے ہیں۔ اب ہوتا کیا ہے؟ یہ جو بینڈ ہوتا ہے جہاں جہاں سے نرو اس کے اندر گزر رہی ہوتی ہے۔ یہاں پر اگر پانی جمع ہوجائے۔ جسے ہم اڈیما کہتے ہیں۔ یہ اس وقت جمع ہوتا ہے خاص طور پر جو حاملہ خواتین ہوتی ہیں۔ یا جن میں موٹاپا آجائے۔ یا جن میں فیٹ زیادہ آجائے ۔جو کام ایسا کرتی ہوں ۔ جس کے اندر  ہاتھ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہو۔ جب آپ یوں استعمال کرتی ہیں۔تو اس پر زور پڑ رہا ہوتا ہے۔ یہ مستقل کام کرنے سے عام طور پر لوگ کہتے ہیں بیالیس سال کی عمر، فیٹ وومن اینڈ فی میل ۔ یہ جس طرح تین چیزیں ہیں ۔ تو یہ چیزیں اگر ہوں گی ۔

تو ان کے اندر کارپل ٹرن ہونے کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اب یہ تومریض  کی کمپلین ہوگئی ۔ اب ڈاکٹر جب دیکھتا ہے تو وہ کیا محسو س کرتا ہے ؟ و ہ یہ محسو س کرتا ہے ۔ ہتھیلی پر انگوٹھے کے ساتھ یہ جو ابھا ر ہوتا ہے۔ یہ بیٹھ جاتی ہیں۔ اس کو  ویسٹنگ کہتے ہیں ۔ ایک تو اس کی ویسٹنگ ہوجاتی ہے۔دوسرا  مریض کا ہاتھ الٹا کر روکے رکھیں۔ تواس کو جو سن ہونے کی کیفیت  ہے یہ طاری ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات ہم انگوٹھے کے ابھار پر تھپتھپا کرکے بھی دیکھتے ہیں۔ اور یوں کرنے سے بھی آپ کو سنسنا ہٹ محسوس ہوتی ہے۔ اگر کسی کا ہاتھ سوجاتا ہے۔ وہ رات کو سوتا ہے ہلانےسے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اگر انگوٹھے کے ابھار  کی جگہ پر  ویسٹنگ ہوتی ہے۔ یہ تو سی ۔ ٹی ۔ایس کی نشانی ہے۔ اب اس کے اندر  ایکسر ے کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک  ہی ٹیسٹ اس کے لیے اہم ہوتا ہے۔ جس کو  این ۔ سی ۔ ایس ۔ای ۔ ایم ۔جی کہتے ہیں۔

جس طرح ہارٹ کے لیے ای ۔سی ۔ جی کرتے ہیں۔ اسی طرح اس ٹیسٹ کےلیے آپ الیکٹر مائیو گرافی کرتے ہیں۔ یہ آپ کو بتادے گا۔ جو میڈین نرو  ہے  اس کی کمپریشن کتنی ہے۔ ا س طرح جب اس کی ٹرینٹمنٹ شروع کرتے ہیں۔ تو اس کے اندر تین چار چیزیں  ہیں۔ آپشنز ہوتےہیں۔ پہلا آپشن ہوتا ہے کہ ہم میڈیکیشن اور ایکسرسائز بتاتے ہیں۔ دوسرے نمبر ہم ریفر کرتے ہیں۔ فزیوتھراپسٹ کو  وہ فز یو تھر اپی کے ذریعے اس کو ٹھیک کرسکتا ہے۔ تیسرا آپشن ہے ۔ جو عام طور پر زیادہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ زیادہ تر  جو مریض آتے ہیں۔ وہ چھ آٹھ مہینے ، سال اور دو سال کے ہوچکے ہوتے ہیں۔ پھر ان کو ہم ہتھیلی کے نچلے حصے کے درمیان میں سٹرائیڈ کا انجیکشن لگاتے  ہیں۔ اور وہ بھی لگانے کا خاص طریقہ ہوتا ہے۔

کہ کس اینگل پر آپ نے سوئی رکھنی ہے۔ اور کتنا جو بھی ٹیکہ ہے وہ آپ نے لگانا ہے۔ اس سے بھی آرام  نہ آئے۔ تو پھر اس مریض کی سرجری کی جاتی ہے۔ تو یہ پورا کورس ہے۔ لیکن تمام وہ ہاتھ جو سن ہوتے ہیں۔ ان کو سی ۔ ٹی ۔ایس نہیں سمجھنا چاہیے۔ خاص طور پر جن لوگوں  کی  چھوٹی انگلی سن ہوتی ہے۔ ان کو کا پر ٹرنل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ سپلائی   اس انگلی کی سپلائی  الگ نرو ہوتی ہے۔ اس کی عام طو ر پر زیادہ وجہ ہوتی ہے وہ ہماری گردن میں  کوئی نرو کا یا نروروٹ کا دب جانا ہوتا ہے۔ تو اس لیے  یہ کچھ نشانیاں  سی ۔ ٹی ۔ ایس کی ہیں۔

About admin

Check Also

”رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مومن پر کوئی پریشانی آتی ہے تو ۔۔۔؟“

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب بھی مومن کسی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *