”کل میں دکان سے جلدی گھر چلا آیا ۔عام طور پر رات میں 10 بجے کے بعد آتا ہوں ، کل 8 بجے ہی آگیا سوچا تھا گھر جاکر تھوڑی دیربیوی سے باتیں کروں گا“

کل میں دکان سے جلدی گھر چلا آیا ۔عام طور پر رات میں 10 بجے کے بعد آتا ہوں ، کل 8 بجے ہی آگیا سوچا تھا گھر جاکر تھوڑی دیربیوی سے باتیں کروں گا ، پھر کہوں گا کہ کہیں باہر کھانا کھانے چلتےہیں.بہت سال پہلے، ہم ایسا کرتے تھے ۔گھر آیا تو بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔مجھے لگا کہ جب تک وہ یہ والا سیریل دیکھ رہی ہے، میں کمپیوٹر پر کچھ میل چیک کر لوں ۔

میں میل چیک کرنے لگا ، کچھ دیر بعد بیوی چائے لے کر آئی ، تو میں چائے پیتا ہوا دکان کے کام کرنے لگا ۔اب ذہن میں تھا کہ بیوی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کروں گا ، پھر کھانا کھانے باہر جائیں گے ، پر کب 8 سے 11 بج گئے، پتہ ہی نہیں چلا ۔بیوی نے وہیں ٹیبل پر کھانا لگا دیا ، میں خاموشی سےکھانا کھانے لگا ۔کھانا کھاتے ہوئے میں نے کہا کہ کھانا کھا کر ہم لوگ نیچے ٹہلنے جائیں گے، گپ شپ کریں گے ۔ بیوی خوش ہو گئی ۔ہم کھانا کھاتے رہے ، اس درمیان میری پسند کا ٹی وی پروگرام شروع ہو گیا اور میں کھاتے کھاتے اسی پروگرام میں کھو گیا ۔پروگرام دیکھتے ہوئے صوفے پر ہی سو گیا ۔

جب آنکھ کھلی تو آدھی رات بیت چکی تھی بہت افسوس ہوا کہ دل میں سوچ کر گھر آیا تھا کہ جلدی آنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آج کچھ وقت بیوی کے ساتھ گزاروں گا ۔ پر یہاں تو شام کیاآدھی رات بھی گزر گئی ۔ایسا ہی ہوتا ہے ، زندگی میں ۔ہم سوچتے کچھ ہیں ، ہوتا کچھ ہے ۔ہم سوچتے ہیں کہ ایک دن ہم جی لیں گے ، پر ہم کبھی نہیں جیتے ۔ہم سوچتے ہیں کہ ایک دن یہ کر لیں گے ، پر نہیں کر پاتے ۔آدھی رات کو صوفےسے اٹھا ، ہاتھ منہ دھو کر بستر پر آیا تو بیوی سارا دن کے کام کاج سے تھکی ہوئی سو گئی تھی میں خاموشی سے بیڈ روم میں کرسی پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگا ۔

بیس سال پہلے اس عورت کو بیاہ کر لایا تھا ۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ خوشی میں ، دکھ میں زندگی کے ہر موڑ پر میں تمہارے ساتھ رہوں گا ۔پر یہ کیسا ساتھ ؟ میں صبح جاگتا ہوں اور اپنے کام میں مصروف ہو جاتا ہوں ۔وہ صبح جاگتی ہے میرے لئے چائے بناتی ہے ۔چائے پی کر میں اخبار کی دنیا سے جڑ جاتا ہوں ،وہ میرے اور بچوں کے لیے ناشتہ کی تیاری کرتی ہے ۔پھر ہم دونوں گھر کے امور کے بارے میں تھوڑی بہت بات کرتے ہیں ،میں دکان پر جانے کے لئے تیار ہوتا ہوں ،وہ گھر اور بچوں کے کاموں میں مشغول ہو جاتی ہے ۔پھر ہم دونوں اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔میں ایک بار دکان چلا گیا ، تو اسی بات میں اپنی شان سمجھتا ہوں کہ میرے بغیر میری دکان کا کام نہیں چلتا ، وہ اپنا کام کرکے رات کے کھانے کی تیاری کرتی ہے ۔دیر رات میں گھر آتا ہوں اور کھانا کھاتے ہوئے ہی نڈھال ہو جاتا ہوں ۔ ایک مکمل دن خرچ ہو جاتا ہے ،

جینے کی امنگ میں ۔وہ سیدھی سادھی عورت مجھ سے کبھی شکایت نہیں کرتی ۔ کیوں نہیں کرتی میں نہیں جانتا ۔پر مجھے خود سے شکایت ہے ۔آدمی جس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے ، سب سے کم اسی کی پرواہ کرتا ہے ۔ کیوں؟بہت دفعہ لگتا ہے کہ ہم خود کے لئے اب کام نہیں کرتے ۔ ہم کسی نامعلوم خوف اور ڈر سے مقابلہ کرنے کے لئے کام کرتے ہیں ۔ ہم جینے کے بہانے زندگی برباد کرتے ہیں ۔کل سے میں سوچ رہا ہوں ، وہ کون سا دن ہوگا جب ہم جینا شروع کریں گے ۔کیا ہم گاڑی، ٹی وی، فون، جوتے، کپڑے خریدنے کے لئے زندگی گزار رہے ہیں؟

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *