لوگ ناک اور کان اس لئے چھدواتے ہیں تاکہ فیشن اور۔۔۔ جانیں ایسی وجوہات جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہوں گی

پاکستان اور بھارت میں یہ روایت ہے کہ شادی سے قبل ہر لڑکی ناک ضرور چھدواتی ہے اور جو لڑکیاں ناک نہ چھدوائیں ان کو بُزرگ خواتین بار بار کہتی ہیں کہ وہ شادی سے پہلے ہی ناک چھدوا لیں لیکن اب دنیا بھر میں یہ ایک ٹرینڈ بن چُکا ہے۔یہی نہیں بلکہ کان تو بچیوں کے بہت کم ہی عمر میں چھِدوا دیئے جاتے ہیں، اب اگر عام طور پر آپ گھروں میں یہ سوال پوچھیں گی کہ کان اور ناک کیوں چھدوانے چاہیئے

تو یقیناً آپ کو بھی یہی جواب سننے کو ملا ہوگا کہ روایت ہے، ایک رواج ہے جس کو پورا کرنا فرض ہے وغیرہ وغیرہ۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے جو شاید کسی بھی لڑکی یا عورت کو اس زمانے میں معلوم نہیں ہے؟ ناک چھدوانے سے خواتین کو سر درد نہیں ہوتا، جی ہاں کیونکہ ماہرین ایسا بتاتے ہیں کہ خواتین کو سر درد کی شکایت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ناک چھدوانا خواتین کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔• اس کی وجہ سے خواتین کے جسم میں ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں جو ان کے مدافعتی نظام کو بھی بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ اس سے ماہواری کے درد میں کمی آ جاتی ہے کیونکہ ناک میں جس جگہ آپ پِن پہنتی ہیں وہ جگہ پیریڈ پریشر پوائنٹ ہے اور جب پریشر پوائنٹ پر پِن موجود ہوتی ہے تو یہ پِن درد کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نوز پِن بچے کی پیدائش کے وقت بھی ہونے والے درد کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔ عام طور پر چونکہ شادی کے بعد

اس قسم کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں اسی وجہ سے خواتین کو شادی سے قبل ناک چھدوانے کے لئے کہا جاتا ہے۔لڑکیوں کے کان بچپن میں ہی چھدوا دیئے جاتے ہیں، مگر جن لڑکیوں کے کان نہیں چھدوائے جاتے ان کو لوگ حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کان اس لئے چھدوائے جاتے ہیں کیونکہ یہ ایک ثقافت ہے کہ عورت یا لڑکی کے کانوں میں بالیاں یا ٹاپس اور نگ پہننے سے ان کے کانوں کی خوبصورتی کو بڑھایا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کا حسین بڑھ جاتا ہے۔ لوگ کان اس لئے بھی چھدواتے ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں اور وہ اپنی شناخت دوسروں میں منفرد بنا سکیں۔ فیشن کے نت نئے انداز کی وجہ سے جان چھدوانے کا رجحان زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بالیاں اور بندے پہننے کا شوق بھی کان چھدوانے کی ایک وجہ ہے۔

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *