عصما ء نامی ایک یہودی عورت نے حضور پاکﷺ کی شان میں گستاخانہ اشعار کہے۔۔۔؟؟؟

عصماء نامی ایک یہودی عورت حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک شان میں سرعام نازیبا اشعار کہا کرتی تھی ۔ غزوہ بد ر کے بعد اس عورت نے آپؐ کی شان اقد س میں نازیبا اشعار کہے۔ جنہیں سن کر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں غیرت وحمیت جاگ اٹھی اور ایک نابنیا صحابی حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ رات کو اس ناپاک عورت کے گھر گئے۔

ہر طر ف اندھیرا تھا۔ اندرداخل ہوئے اور تلوار اس عورت کے جسم کے آرپار کردی۔ حضور اکرمﷺ کی خدمت میں آکر ساری کاروائی سنائی تو آپؐ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: اگر ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو،جس نے خدا اور اس کے رسول ؐ کی غائبانہ مدد کی ہے۔ تو عمیر بن عدیؓ کو دیکھ لے۔ ایک یہودی (ابو عفک ) جو ایک سو بیس سال کا بوڑھا تھا، وہ حضور اکرم ؐ کی شان اقدس میں نازیبا اشعار کہا کرتا تھا۔ لوگوں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا اور دشمنی پر ابھارتا تھا۔چنانچہ ایک دن آپؐ نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ کون ہے جو میری عزت وناموس کےلیے اس کا کام تمام کردے؟ یہ سن کر حضرت سالم بن عمیرؓ کھڑے ہوگئے۔ اورآپ ؐ سے اجازت چاہی۔

اور ق ت ل کےلیے روانہ ہوئے۔ گرمی کی رات تھی ابوعفک اپنے گھر میں سورہاتھا۔ حضرت سالم بن عمیرؓ اس کے کمرے میں پہنچے اور تلوار کے وار سے جسم کو کاٹ کر اور اس کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کعب بن اشرف ایک یہودی سردار تھا۔یہ نبی کریم ﷺ کا بدترین دشمن تھا ۔ آپ ؐ کی شان اقدس میں اکثر نازیبا کیا کرتا تھا، جو لوگ اس کے پاس آکر حضور ؐ کی شان میں نازیبا کرتے، آپ ؐ کو (نعوذ باللہ )برا بھلاکہتے، انہیں وہ خوب انعام دیتا اور اگر کوئی اس کے سامنے حضورؐ کی تعریف کرتا تو اسے گھرسے ہی نکا ل دیتا ۔ یہ شاعر بھی تھا اور آپؐ کی شان مبار میںنازیبا اشعار کہا کرتا تھا ۔غزوہ بد رمیں مسلمانوں کی عظیم الشاں فتح و کامیابی کے بعد یہ یہودی مشرکین مکہ کے پاس تعزیت کے لیے پہنچا، اور ان کے م ق ت ول ی ن کی یا د میں مرثی ے کہتا خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور لوگوں کو مسلمانوں سے بدلہ لینے پر ابھارتا تھا ۔

آخر ایک دن حضور ؐ نے اعلان کروایا کہ کون ہے جو کعب بن اشرف کے ق ت ل کی ذمہ داری لے؟ یہ سن کر ایک خدا کا ولی اور عاشق رسول ؐ حضرت محمد بن مسلمؓہ نے اس کے ق ت ل کی ذمہ داری لی۔ وہ صحابی اس کعب بن اشرف کے بھانجے تھے ۔ انھوں نے اپنے ساتھ چار دوسرے صحابہ کرام کو لیا۔ کعب بن اشرف کو ق ت ل کرنا کوئی بچوں کا کھیل اور آسان نہ تھا۔ کیونکہ وہ مدینہ میں ایک مضبوط اورمحفوظ قلعہ میں رہتا تھا جس پر ہ روقت مسلح پہر ے دار ہوتے تھے۔

بہر حال انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ق وت ایمانی سے ایک کامیاب منصوبہ بنایا اور حق تعالیٰ کی مدد و نصرت سے آخرکا اسے واصل جہنم کرنے میں کامیا ب ہوگئے۔ آپؐ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو دعا دی اور فرمایا:خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے اسلام کے خلاف اتنے بڑے ف ت ن ے اور دش م ن کو پ ام ال کیا۔ خداتعالیٰ کی شان ماموں نے یعنی کعب بن اشر ف نے جہنم کا ٹکٹ لیا۔ اوراس کے حقیقی بھانجے یعنی حضرت محمد بن مسلمہؓ نے جنت الفردوس کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے جنت الفردوس میں داخل ہوگئے۔

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *