Breaking News

طاقت کے لیے پانی میں ملا کے پی لیں

شہد یوں تو کئی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن اگر صبح اٹھ کر نہار منہ گرم پانی میں لیموں کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو یہ بے شمار فائدے دے سکتا ہے۔

لیموں کےپانی کے فوائد کے متعلق تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن اگر آپ پانی کو نیم گرم کرلیں،اس میں آدھا لیموں نچوڑ لیں اور تھوڑا سا شہد بھی ڈال لیں اور اس مشروب کو صبح نہار منہ پئیں تو اس کے فوائد کا شمار ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق شہد یوں تو کئی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن اگر صبح اٹھ کر نہار منہ گرم پانی میں لیموں کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو یہ بے شمار فائدے دے سکتا ہے۔

اگر باقاعدگی سے اس کا استعمال کیا جائے تو آپ یہ فائدے حاصل کرسکتے ہیں۔

نزلہ، زکام اور معدے کے امراض سے حفاظت۔روز صبح گرم پانی کے ساتھ لیموں اور شہد کا استعمال نزلہ اور زکام سے حفاظت دے گا،لیموں اور شہد معدے کی صفائی کرتے ہیں جس کے باعث معدے میں مضر صحت اشیا جیسے چکنائی وغیرہ جمع نہیں ہوتی یوں آپ معدے کی بیماریوں سے بچے رہیں گے۔

چائے سے چھٹکارہ۔صبح اٹھنے کے بعد اکثر لوگوں کو اپنا سر بھاری محسوس ہوتا ہے جس سے نجات پانے کے لیے وہ چائے یا کافی کا استعمال کرتے ہیں،نہار منہ شہد اور لیموں کا پانی استعمال کرنے سے توانائی میں اضافہ ہوگا اور آپ خود کو چاک و چوبند محسوس کریں گے نتیجتاً آپ کو چائے کافی کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

نظام ہاضمہ میں بہتری ۔نہار منہ شہد اور لیموں کا پانی نظام ہاضمہ کو فعال اور بہتر کرتا ہے،قبض اور گیس جیسے مسائل سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔

وزن میں کمی۔وہ افراد جو اپنے وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں انہیں ڈائٹنگ کے بجائے نہار منہ لیموں اور شہد ملا پانی پینا چاہیئے،یہ جسم کی فاضل چربی کو گھٹاتا ہے اور وزن میں کمی لاتا ہے۔

جلد کی خوبصورتی میں اضافہ ۔لیموں اور شہد دونوں ہی خون کی صفائی کرتے ہیں اور جسم سے کیمیائی مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں جلد صاف ہونے لگتی ہے اور اس میں نکھار آجاتا ہے۔

About admin

Check Also

کسی خوبصورت عورت کے شوہر نے اچانک داڑھی رکھ لی ، جب پڑوسن نے عورت سے پوچھا یکا یک تبدیلی کیسے آئی تو اس نے کیا جواب دیا ؟ ارشاد بھٹی کی ایک دلچسپ غیر سیاسی تحریر

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا ’’کچھ لوگوں کو ’کیسے ہو‘ نہیں بلکہ ’کیوں ہو‘ کہنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *