Breaking News

صرف دو دن میں آپ پر دولت برسے گی

ماہ رمضان کے علاوہ اسلام میں ماہ شعبان کے روزوں کی فضیلت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ شعبان کا مہینہ عبادت اور نجات کا مہینہ ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں سے بڑھ کر عبادت کرتے تھے۔ لہذا شب برات دوسری راتوں کی نسبت عبادت کی زیادہ مستحق ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں۔ علامہ ابنِ تیمیہؒ نے شب برات میں عبادت اور قیام پر لکھا ہے کہ جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے۔ شب برات ایسی مبارک رات ہے جب اللہ عزوجل آسمان دنیا پر جلو افروز ہوتے ہیں اور اس رات زندگی اور موت اور نجات و مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔

اس رات اجتماعی طور پر خشوع و خضوع سے گھروں اور مساجد میں عبادت کرنی چاہئے ۔گھر میں برکت کے لئے اہل خانہ کو چاہئے کہ وہ بچوں کو ایک ساتھ بیٹھا کر تسبیحات کریں اور نوافل ادا کریں ۔میرے بزرگوں کا فرمان ہے کہ جو بندہ رزق ،روحانیت،بندش آلام و سحر ،ترقی روزگار،شادی بیاہ میں تاخیر سمیت ایسے مسائل سے دوچار ہوتو اسے صدق دل سے معافی مانگنی چاہئے ،آیت کریمہ اور تیسرے کلمہ کے علاوہ سورہ فاتحہ ،سورہ ملک ،سورہ یٰسین کی پڑھائی کا بطور خاص اہتما م کرے ۔نماز تہجد ادا کرنے کے بعد سربسجود ہوکر استغفراللہ بکثرت پڑھے ۔دست دعا اٹھا کر آنسووں سے تطہیر قلب کرے اور امید رکھے کہ اس رات اللہ کریم اس پر اپنی رحمت کا نزول فرمائیں گے۔دل کی مرادیں پوری ہوں گی۔اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرم سے اور اختتام ماہِ ذو الحجہ پر ہوتا ہے۔ شعبان آٹھواں اسلامی مہینہ ہے جو رمضان المقدس سے پہلے آتا ہے۔ اس مہینے کو اللہ تعالی ٰٰنے بہت فضیلت عطا فرمائی ہے، جس کی عظیم وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مہینہ میں ماہ ِرمضان کے روزوں، تراویح اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔ رمضان جو اپنی برکتوں، رحمتوں اور عنایات ربانی کا موسم بہار ہے اس کی تیاری کا ماہِ شعبان سے شروع ہونا اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتاہے۔

گویا شعبان کو رمضان کا مقدمہ کہنا چاہیے۔ماہ شعبان کی فضیلت:ماہِ شعبان عظمت والا مہینہ ہے ،کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خصوصیت سے خیر و برکت کی دعا فرمائی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔چونکہ یہ رمضان کامقدمہ ہے، اس لیے اس میں رمضان کے استقبال کے لیے تیاری کی جاتی ہے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ میں رمضان کی تیاری کی ترغیب دی ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شعبان کے مہینہ کی آخری تاریخ میں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظمت و برکت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر، تراویح، مغفرت باری تعالیٰ اور رمضان میں اہتمام سے کیے جانے والے خصوصی اعمال کا تذکرہ فرمایا۔شعبان کی فضیلت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے چاند اور اس کی تاریخوں کے حساب کا بھی بہت اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شعبان کے چاند( تاریخوں) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تاکہ رمضان کا حساب ہو سکے۔یعنی رمضان کے صحیح حساب کے لیے شعبان کا چاند اور اس کی تاریخوں کوخصوصیت سے یاد رکھا جائے۔ جب شعبان کی آخری تاریخ ہو تو رمضان کا چاند دیکھنے میں پوری کوشش کی جائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

About admin

Check Also

ادرک کے پانی کے ذریعے پیٹ کی چربی اور دردوں سے چھٹکارا ہمیشہ کیلئے ، طریقہ جانیں

دوائی چھوڑئے ادرک کا استعمال کریں۔ اور بیماریاں بھگائے ادرک ایک خوشبودار جڑ کہلاتی ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *