صدقے میں جو لوگ اپنے پھٹے پرانے کپڑے غریبو ں کو دیتے ہیں

صدقے کی بڑی فضیلت ہے ۔ اسلام میں صدقے کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اس کے اتنے بے شمار فضائل ہیں کہ آپ جان کر حیران ہو جا ئیں گے ہمارا مذہب اسلام صدقے دینے کا حکم فر ما تا ہے اور کہتا ہےکہ ہمارے جو غریب لوگ ہیں ان کی مدد کرو۔ ان کی ہر حالت میں مدد کرو۔ جہاں پر اللہ نے زکوٰۃ کو فرض فر ما یا وہاں پر صدقے کی ترغیب بھی آئی ہے بعض جگہ پر یہ مختص ہے اور عمومی حالات میں اس کو خاص نہیں کیا گیا ہے۔ صدقے کی تر غیب اس لیے دی گئی ہے کہ معاشرے میں موجود غریب لوگ غریبوں کے ساتھ خیر خواہی کر سکیں ۔

ہم آپ کو یہ بتا ئیں گے کہ صدقے میں جو لوگ استعمال شدہ یا زیادہ پرانی چیزیں دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے اس سے قبل ہم اصل موضوع کی جا نب بڑ ھیں آپ سے درخواست ہے کہ ہماری ان باتوں کو ان معلوماتی باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ آپ کو معلو مات حاصل ہو سکیں۔ یاد رہے کہ اسلام میں زکوٰۃ کو بطور ِ حکم فر ض کیا ہے لیکن صدقے کا معاملہ اس سے جدا ہے معاشرے کی ناداروں کے لیے صدقے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کی گنجائش نہیں رکھی گئی ۔ تا کہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کی خدمت کر کے اپنا حق ادا کر سکے۔

اللہ نے امیروں کے معاملے میں غریبوں کا حق رکھا ہے تا کہ امیر غریبوں کے ساتھا چھا سلوک کر یں اور انہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور اگر وہ ایسا کر یں گے تو اللہ کی نظروں میں گر جا ئیں گے۔ اپنے صدقات کے ساتھ خیر خواہی کر سکیں اور صدقے کا اللہ نے بڑا اجر رکھا ہے صدقے کا اللہ کے ہاں کیا اجر ہے اس بارے میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے ارشاد فر ما یا جس نے حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر صدقہ دیا اور یاد رہے۔

کہ اللہ حلال کمائی ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اپنے ہاں اس کی اس طرح پرورش کر تا ہے جس طرح کو بچھڑے کی پرورش کر تا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی مانند ہو جا تا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ صدقہ و خیرات صرف حلال کمائی سے ہی دیا جا سکتا ہے حرام کی کمائی سے نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول فر ما تا ہے دوسری بات یہ معلوم ہو ئی کہ اللہ پاک قیامت کے دن صدقہ و خیرات کرنے والوں کو عملوں میں پہاڑ کی مانند اجر و ثواب عطا فر ما ئے گا

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *