سید نا ابو بکر صدیق کےعہد خلافت میں ایک شخص فوات ہوا۔۔۔۔؟؟

ایک شخص امام ابو حنیفہ ؒ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے گھر میں رقم رکھی تھی ، مگر اب وہ جگہ یاد نہیں ہوتی، جہاں وہ رقم رکھی تھی۔۔ اگر میں سارے گھر کو کھودوں تو اس میں مشقت ہے، لہٰذا کوئی تدبیر بتائیے کہ وہ جگہ یاد آجائے ۔ امام صاحبؒ نے اول تو انکار کیا کہ بھائی ! یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے ، جس کامیں جواب دوں ، لیکن جب اس کا اصرار بڑھا تو فرمایا کہ آج رات نیت کر لو کہ جب تک وہ جگہ یاد نہ آئے ، اس وقت تک نفلیں ہی پڑھتا رہوں گا، چاہے صبح کیوں نہ ہوجائے ؟

امام صاحب ؒ نے فرمایا وہ جگہ یاد آجائے گی۔ چنانچہ اس نے اسی نیت سے نماز شروع کی، دوسری ہی رکعت میں وہ جگہ یاد آگئی اور اس نے نماز مکمل کرکے رقم نکال لی۔ صبح کو امام صاحب ؒ کو واقعہ سنایا تو امام صاحب نے فرمایا، یہ شیطان نے بھلایا تھا اور پھر اس کو کب گوارا تھا کہ تم رات بھر نماز ہی پڑھتے ، اس لیے اس نے فوراً یاد دلایا، مگر تم کو چاہیے تھا کہ یاد آنے کے بعد بھی بطور شکریہ شیطان کو ذل۔یل کرنے کےلیے تمام رات نماز پڑھتے رہتے ۔ سیدنا ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں ایک شخص فوت ہوا، جب لوگ اس کا جنازہ پڑھنے کےلیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے کفن کے اندر کوئی چیز حرکت کررہی ہے۔

جب کفن کی گرہ کھولی تو دیکھا کہ ایک سان پ ہے، جو اسے ڈ س رہا ہے۔ لوگوں نے اسے م۔ارنا چاہا۔ سانپ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا ” اے لوگو! تم مجھے کیوں م۔ارتے ہو، حالانکہ میں اپنے آپ نہیں آیا ، بلکہ حق تعالیٰ کے حکم سے آیا ہوں اور اسے قی۔امت تک ڈ س تا رہوں گا۔”لوگوں نے پوچھا: “اے سان۔پ ! یہ بتا کہ اس کا ج۔رم کیا تھا، جس کی وجہ سے اسے یہ عذاب دیاگیا؟” س۔ان۔پ نے کہا: اس کے تین جرم تھے :پہلا یہ اذان سن کر مسجد نہیں آیا کرتا تھا۔ دوسرا مال کی زکوٰۃ نہیں ادا کیا کرتا تھا۔ تیسرا علمائے کرام کی بات نہیں سنتا تھا۔ رب تعالیٰ مظلوم کی بد دعا فوراً سنتا ہے

منقول ہے کہ جب خالد بن برمک اور اس کے بیٹے کو ق۔ید کیاگیا تو بیٹے نے عرض کی: “اے میرے اباجان ، ہم عزت کے بعد ق۔ید و ب۔ند کی صعوبتوں کا ش۔ک۔ا ر ہوگئے۔ ” تو اس نے جواب دیا: “اے میرے بیٹے ! مظ۔لوم کی بد دعا رات کو جاری رہی، لیکن ہم اس سے غافل رہے ، جبکہ خدا اس سے بے خبر نہ تھا۔ ” (کتاب الکبائر المذہبی ص120) حضرت سیدنا یزید بن حکیم ؒ فرمایا کر تے تھے کہ میں اس سے زیادہ کسی سے نہیں ڈ را، جس پرمیں نے ظ۔لم کیا اور میں جانتا ہوں کہ اس کا خدا عزوجل کے سوا کوئی مدد گار نہیں۔ وہ مجھ سے کہتا ہے : ” مجھے خدا ہی کافی ہے ، خدا ہی میرے اور تیرے درمیان (انصاف کرنے والا) ہے”۔ (کتا ب الکبائر المذہبی ص 120

About admin

Check Also

”حضرت موسیٰؑ جب کوہ طور کی طرف جانے لگے توراستے میں ایک نیم برہنہ“

حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف جانے لگے تو راستے میں ایک شخص …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *