سارا دن جو کام کریں گے پورا ہوگا

آپ کا ہر مقصد پورا ہونے کا خاص اور مجرب وظیفہ حاصل ہوئی ہوں۔ سر کارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ اللہ پاک نے ہر ایک جان کو پیدا فر ما یا اور اس کی زندگی میں مصیبتوں اور مشکلات کو لکھ دیا گیا ہے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس بات پر یقینِ کامل ہونا چاہیے کہ غم ہو یا خوشی ، نعمت یا تکلیف اللہ پاک کی طرف سے ہی ہے۔ اللہ پاک ہی ہر مصیبت کا رکھو ا لا ہے اور اللہ پاک ہی ہر مصیبت کو حل کرنے والی ذات ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو ہر مصیبت، ہر مشکل اور ہر آ زمائش لے کر آ تی ہے اور یہ آ زمائش اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بندے سے نفرت کرتا ہے بلکہ وہ یہ دیکھنا چا ہتا ہے کہ میرا بندہ کتنا میرا شکر ادا کرتا ہے۔

وہ یہ دیکھنا چاہا رہا ہوتا ہے کہ میرا بندہ میری ناشکری کرتا ہے یا اس حال میں بھی میرا شکر ادا کرتا ہے جیسے اچھے حالات میں میرا شکر ادا کرتا تھا۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اللہ پاک انسان کی اوقات سے بڑ ھ کر اس پر بو جھ نہیں ڈالتا تو ہمار ی یہ سوچ ہمارا یہ ایمان ہو نا چاہیے کہ یہ خوشی، ہر طرح کی خوشی، ہر طرح کا غم ، ہر طرح کی چاہت ، ہر طرح کی محبت غرض ہر طرح کے حالات اللہ کی طرف سے ہی آتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کر یں تا کہ اللہ کی ذات ہم سے راضی ہو سکے اور جب اللہ کی ذات راضی ہو جائے گی تو ہر کمی ، ہر چاہت پور ی ہو جائے گی انسان کی مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیو نکہ ہر مسلمان کی چاہت یہی ہوتی ہے

کہ اس سے اس کا رب، اس سے اس کا مالک، اس سے اس کا پروردگار، خوش ہو جائے اور راضی ہو جائے۔ تو آج میں جو وظیفہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں وہ با کمال وظیفہ ہے۔ تمام وظائف کا یہ استاد ہے ۔ ہر چیز میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی حاجت پیش آ تی ہے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگ رزق مانگتے ہیں تو آپ لوگ یہ وظیفہ کر یں انشاء اللہ آ ج تک یہ وظیفہ کر نا ہے صبح اٹھتے ہی آپ لوگوں نے اس وظیفے کو کر نا ہے یہ تین الفاظ پڑ ھ لینے ہیں تین دفعہ پڑ ھنا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ کام جو بھی شروع کر یں گے وہ کام پورا ہو گا جو حاجت جومقصد ہوگا وہ انشاء اللہ تعالیٰ پورا ہو جائے گا۔ تو کس طرح سے یہ وظیفہ کر نا ہے کہ آپ نے سب سے پہلے تین مرتبہ آ یت الکرسی اپنے اوپر دم کر لینی ہے اور دم کر نے کے بعد آپ نےایک گلاس پانی لینا ہے اس کے اوپر آپ نے تین مرتبہ “یا فتاح یا وھاب” پڑھ لینا ہے

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *