رسول ﷺ کو حضرت عائشہ ؓنے گیا رہ عورتوں کا قصہ سنایا۔۔۔؟؟؟

حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے اپنے گھر والوں کو ایک قصہ سنا یا ایک عورت نے کہا یہ قصہ حیرت اور تعجب میں بالکل خرافہ کے قصوں جیسا ہے (عرب میں خرافہ کے قصے ضرب المثل تھے) حضور اکرم ﷺ نے دریا فت فرمایا: کہ جانتی بھی ہو خرافہ کا اصل قصہ کیا تھا ؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک شخص تھا جس کو جنات پکڑ کرلے گئے تھے ۔ ایک عرصہ تک انہوں نے اس کو اپنے پاس رکھا پھر لوگوں میں چھوڑ گئے۔

وہاں کے زمانہ قیام کے عجائبات وہ لوگوں سے نقل کرتا تھا تو وہ متحیر ہوتے تھے۔ اس کے بعد سے لوگ ہر حیرت انگیز قصے کوحدیث خرافہ کہنے لگے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں ۔ کہ ایک مرتبہ گیارہ عورتیں یہ معاہدہ کرکے بیٹھیں کہ اپنے خاوند کو پورا پورا حال سچا بیان کر دیں کچھ چھپائیں گی نہیں ایک عورت ان میں سے بولی کہ میرا خاوند ناکارہ دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح سے ، اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو کہ نہ پہاڑ کا راستہ سہل ہے جس کی وجہ سے وہاں چڑھنا ممکن ہوا اور نہ وہ گوشت ایسا ہے۔ کہ اس کی وجہ سے سودقت اٹھا کر اس کے اتارنے کی کوشش ہی کی جائے اور اس کو اختیا رکیا ہی جائے۔ دوسری بولی مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر اس کے عیوب شروع کروں۔ تو پھر خاتمہ کا ذکر نہیں اگر کہوں تو ظاہری اور باطنی عیوب سب ہی کہوں۔ تیسری بولی کہ میرا خاوند ڈھینگ ہے یعنی بہت زیادہ لمبے قد کا آدمی ہے ، اگر میں کبھی کسی پات پر بول پڑوں تو فوراً طلاق، اور چپ رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔

چوتھی نے کہ میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح معتدل مزاج ہے، نہ گر م ہے، نہ ٹھنڈا نہ اس سے کسی کو خوف ہے نہ ملال۔ پانچویں نے کہا کہ میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا بن جاتا ہے اور جب باہر جاتا تو شیر بن جاتا ہے۔ اور جو کچھ گھر میں ہوتا ہے۔ اس کی تحقیقات نہیں کرتا۔ چھٹی بولی کہ میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب نمٹا دیتا ہے اور جب پیتا ہے۔ تو سب چڑھا جاتا ہے جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لپٹ جاتا ہے۔ میری طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا جس سے میر ی پر اگندگی معلوم ہوسکے ۔ ساتویں نے کہا کہ میرا خاوند رفیع الشان بڑا مہمان نواز اور ونچے مکان والا بڑی راکھ والاہے۔ دراز قد والا ہے اس کا مکان مجلس اور دارالمشورہ کے قریب ہے۔ آٹھویں عورت ام زرعہ نے کہا میرا خاوند ابوزر ع تھا ۔ ابو زر ع کی کیا تعریف کروں؟ زیوروں سے میرے کان جھکا دیئے، مجھے اس نے ایک ایسے غریب گھرانہ سے پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزارہ کرتے تھے ۔ او ر وہاں سے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا تھا جن کے یہاں گھوڑے اونٹ کھیتی کے بیل اور کسان تھے ۔

اس کی خوش خلقی کہ میری کسی بات پر بھی مجھے برا نہیں کہتا تھا، میں دن چڑھے تک سوتے رہتی تو کوئی جگا نہیں سکتا تھا، کھانے پینے میں ایسی ہی وسعت کہ میں سیر ہوکر چھوڑ دیتی تھی ۔ ابوزرع کی ماں بھلا اس کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھر پور رہتے تھے ۔ اس کا مکان نہایت وسیع تھا۔ اور عورتوں کی عادت کے موافق بخیل بھی نہیں۔ ابو زرع کا بیٹا ا س کا کیا کہنا وہ بھی نور علی نور ایسا پتلا دبلا چھریرے بدن کا کہ اس کے سونے کا حصہ ستی ہوئی ٹہنی یاستی ہوئی۔ تلوار کی طرح سے باریک بکری کے بچہ کا ایک دست اس کے پیٹ بھرنے کےلیے کافی (یعنی بہادر کوسونے کےلیے لمبے چوڑے انتظامات کی ضرورت نہ تھی۔ سپاہیانہ زندگی ذراسی جگہ میں تھوڑا بہت لیٹ لیا، اسی طرح کھانے میں بھی مختصر مگر بہادری کے مناسب گوشت کے دو چار ٹکڑے اس کی غذ ا تھی)۔ ابوزرع کی بیٹی بھلا اس کی کیا بات ماں کی تابعدار، باپ کی فرمانبردار ، موٹی تازی سوکن کی جلن تھی ۔

ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بتاؤں، ہمارے گھر کی بات کبھی بھی باہر جا کر نہ کہتی تھی ، کھانے تک کی چیز بھی بے جا اجازت خرچ نہ کرتی تھی۔ گھرمیں کوڑا کباڑ نہیں ہونے دیتی تھی ۔ مکان کو صاف شفاف رکھتی تھی ۔ ہماری یہ حالت تھی کہ لطف سے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن صبح کے وقت جب دودھ کے برتن بلوئے جار ہے تھے۔ ابوزرع گھر سے نکلے ۔ راستہ میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کی کمر کے نیچے چیتے دو بچے اناروں سے کھیل رہے تھے۔ پس وہ کچھ ایسی پسند آئی کہ مجھے طلاق دے دی اوراس سے نکاح کرلیا،(طلاق اس لیے دی کہ سوکن ہونے کی وجہ سے اس کو رنج نہ ہو اور اس کی وجہ سے مجھے طلاق دینے سے اس کے دل میں ابوزرع کی وقعت ہوجائے) ایک روایت میں ہے کہ اس سے نکا ح کر لیا۔ نکاح کے بعد وہ مجھے طلاق دینے پر اصرار کرتی رہی ، آخر مجھے طلاق دے دی۔

اس کے بعد میں نے ایک اور سردار شریف آدمی سے نکا ح کرلیا جو شہسوار ہے اور سپہ گر ہے ، اس نے مجھے بڑی نعمتیں دیں ار ہر قسم کے جانور اونٹ ، گائے ،بکری وغیرہ وغیرہ ہرچیز میں سے ایک ایک جوڑا مجھے دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ ام زرع خود بھی کھایا اور اپنے میکہ میں جو چاہے بھیج دے لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطاؤں کو جمع کروں تب ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے یہ قصہ سنا کر مجھ سے یہ ارشاد فرمایا: کہ میں بھی تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ابوزرع ام زرع کے واسطے “۔ صیحح مسلم “کتاب الصحا بۃ” باب ذکر حدیث ام زرع

About admin

Check Also

انشاء اللہ قیامت تک کوئی بیماری نہیں لگے گی یہ کلمہ صرف 1بار پڑھ لیں 99بیماریوں سے فوری شفاء

آج ہر انسان پریشان ہے کسی کو جانی پریشانی ہے تو کسی کو مالی پریشانی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *