”رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مومن پر کوئی پریشانی آتی ہے تو ۔۔۔؟“

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب بھی مومن کسی پریشانی ،بیماری ،رنج و ملال ،تکلیف اور غم میں مبتلا ہوتا ہے

یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والے بہت سی راتیں خالی پیٹ ( فاقے سے) گزارتے تھے ، ا ن کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا،

اور ان کا کھانا عام طور پر جوء کی روٹی ہوتی تھی ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس پرور دگار کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جنگل کو چلا جائے اور لکڑیوں کا گھٹا باندھ لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی کے پاس جا کر سوال کرے

اور و ہ دے یا نہ دے ۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ اخلاق حسنہ و سیرت طیبہ کے اعتبار سے وہ منور آفتاب ہے، جس کی ہرجھلک میں حسن خلق نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک میں حضرت عیسیٰؑ کا حلم حضرت موسیٰؑ کا جوش اور حضرت ایوب کا صبر پایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لئے بستیوں اور بیابانوں میں اللہ کا پیغام پہنچایا، مخالفین کی سنگ زنی وسختیاں سہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی طرح وطن چھوڑا اور ہجرت کی مگر پھر بھی دنیا انسانیت کو امن و محبت، رحمت اور سلامتی کا پیغام دیا۔

حضرت سلیمانؑ کی طرح اس دنیا میں حکمت کی طرح ڈالی غرض وہ تمام خوبیاں، اوصاف حمیدہ جو پہلے نبیوں میں پائی جاتی تھیں۔ وہ سب بدرجہ کمال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں موجود تھیں۔اسلام ایک ابدی مذہب اور سرمدی اصول ہے۔ امن و سلامتی کا ذریعہ اور صلح و آشتی کا سرچشمہ ہے۔ قبل از اسلام دنیا کے حالات ناگفتہ بہ تھے۔ سینکڑوں خرابیاں اور بے شمار برائیاں سماج میں رائج تھیں توحید کی جگہ شرک خیر کی جگہ شر، امن کی جگہ جنگ اور عدل وانصاف کی جگہ ظلم واستبداد نے لے لی تھی۔ عورت کی معاشرے میں کوئی تکریم نہیں تھی۔

بیٹی کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی اگر جنگ شروع ہوجاتی تووہ جنگ کئی سالوں تک جاری رہتی۔ شراب نوشی، جوئے بازی اور اوہام پرستی ان کے رگ و ریشے میں سمایا ہوا تھا۔ انسانیت سسک رہی تھی، بلک رہی تھی اور کسی ایسے مسیحا کا انتظار کر رہی تھی جو سارے جہاں کا درد اپنے دل میں سمیٹ سکے

ان جاہلانہ رسومات، خود ساختہ مذہبی، سماجی بندشوں، تہذیبی اور اخلاقی تنزلی، فتنہ و فساد، تخریب کاری، خرافات کا خاتمہ کر سکے جو ایسی تحریک چلائے جس سے اوہام پرستی کا خاتمہ ہو جائے جہالت وگمراہی کے اندھیروں، ظلم و جبر کی زنجیر کو توڑ کر غریبوں، بیواوں یتیمو ں اورکمزوروں کے استحصال کو روکے بالآخر رب ذوالجلال کی رحمت جوش میں آئی۔ ظلم وبربریت کی تاریکی میں ہدایت کا ایسا سورج طلوع ہوا جس کی روشنی سے ہر سو اجالا ہو گیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *