رسول اللہ ﷺ کے بالوں اور کنگھی کے ٹکڑوں پر ایک یہودی جادوگر عاصم اور اس کی ۔۔۔؟؟

صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس  تشریف لائے تومحرم 7 ھ میں خیبر سے یہودیوں کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہور جادوگر لبید بن اعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا۔ ان لو گوں نے اس سے کہا کہ محمد ﷺ نے  ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے  وہ تمہیں معلوم ہے ۔ ہم نے ان پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی۔

مگر کوئی کامیابی نہیں۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں ۔ کیونکہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو ، یہ تین اشرفیاں  حاضر ہیں ۔ انہیں قبول کرو اور محمد ﷺ پر ایک زور کا جادو کردو۔ اس زمانے میں حضور اکرمﷺ کے ہاں ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اس سے ساز باز کرکے ان لوگوں نے حضور ﷺ کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کرلیا۔جس میں آپ کے موئے مبارک تھے۔ انہی بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر جادو کیا گیا۔ بعض روایات  میں یہ کہ لبید بن اعصم نے خود جادو کیا تھا، اور بعض میں یہ ہے کہ اس  کی بہنیں اس سے زیادہ جادوگر نیاں تھیں ۔ ان سے  اس نے جادو کروایا تھا۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں جوصورت بھی  ہو، اس جا دو کو ایک نر کھجور کے خوشے کےغلاف میں رکھ کر لبید نے بنی زریق کے کنویں  ذروان یا ذی اروان نامی کی تہ میں ایک پتھر کے نیچے دبادیا۔ اس جادو کا اثر نبی ﷺ پر ہوتے ہوتے پورا سال لگا۔

دوسری ششماہی میں کچھ تغیر مزاج محسو س ہونا شروع ہوا، آخری چالیس دن سخت اورآخری تین دن زیادہ سخت گزرے۔ مگراس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضور ﷺ پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپ گھلتے چلے جارہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ وہ کر لیا  ہے  مگر نہیں کیا ہوتا تھا، اپنی ازواج کے متعلق خیال فرماتے کہ آپ ان کے پاس گئےہیں مگر نہیں گئے ہوتے تھے، اور بعض اوقات آپ کو اپنی  نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا۔ کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپ کی ذات تک محدود رہے ، حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا، کہ آپ پرکیا گزر ہی ہے۔ رہی آپ کے نبی ہونے کی حیثیت تو اس میں آپﷺ  کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا۔

کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ کہ اس زمانے میں آپ قرآن کی کوئی آیت بھو ل گئے ہوں، یاکوئی آیت آپ نے غلط پڑھ  ڈالی ہو، یا اپنی صحبتوں میں اور اپنے وعظوں اور خطبوں میں آپ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہوگیا ہو ، یا کوئی ایسا کلام آپ نے وحی کی حیثیت سے پیش کردیا ہو۔ آخر کا ر ایک روز آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے کہ آپ نے باربار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اسی حالت میں نیند آگئی یا غنودگی طار ی ہوئی اور پھر بیدار ہوکر آپ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ  میں جو بات اپنے رب سے پوچھتی تھی وہ اس نے مجھے بتا دی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایادو آدمی میرے پاس آئے ۔ ایک سرہانے کی طرف تھا اور دوسرا پائینتی کی طرف۔ ایک نے پوچھا انہیں کیا ہوا ؟ دوسرے نے جواب دیا ان پر جادو ہوا۔ اس نے پوچھا کس نے کیا ہے ؟

جو اب دیا لبید بن اعصم نے ۔ پوچھا کس چیز میں کیا ہے؟ جو اب دیا کنگھی اور بالوں میں ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر، پوچھا وہ کہاں ہے ؟ جواب دیا بنی زریق کے کنویں ذی اروان  کی تہ  کے پتھر کے نیچے ہے۔ پوچھا اب اس  کے لیے کیا کیا جائے؟ جو اب دیا کہ کنویں  کا پانی سو نت دیا جائے اورپھر پتھر کے نیچے سے اس کو نکالا جائے۔ اس کے بعد  نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  ، حضرت عمار بن یا سر رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ ان کے ساتھ جبیر بن ایاس الزرقی اور قیس بن محصن الزرقی بھی شامل ہوگئے۔ بعد میں حضور ﷺ خود بھی چند اصحاب کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ پانی نکالا گیا اور وہ غلاف برآمد کرلیا گیا۔ اس میں کنگھی اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیا رہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔

جبرائیلؑ نے آکر بتایا کہ آپ معوذ تین پڑھیں۔ چنانچہ آپ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہے۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں گھل گئیں۔ ساری سوئیاں نکل گئیں۔ اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر بالکل ایسے ہوگئے  جیسے کوئی شخص بندھا ہو ا تھا، پھر کھل گیا۔ اس کے بعد آ پ نے لبید کو بلا کر باز پرس کی۔ اس نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور آپ نے اس کو چھوڑ دیا ، کیونکہ اپنی ذات کے لیے آپ نے کبھی  کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے اس معاملہ کا چرچا کرنے سے بھی یہ کہہ کر انکار دیا کہ مجھے  اللہ نے شفاء دی ہے  ا ب میں نہیں چاہتا کہ کسی کے خلاف  لوگوں کو بھڑکاؤں۔ یہ ہے سارا قصہ اس جادو کا ۔ اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے  جو آپ کے منصب نبوت میں قادح ہو۔

ذاتی حیثیت سے اگر آپ کو زخمی کیا  جاسکتا تھا۔ جیسا کہ جنگ احد میں ہوا اگر آپ گھوڑے سے گر کر چوٹ کھا سکتے تھے۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے  ، اگر آپ کو بچھو کا ٹ سکتا تھا ، جیسا کہ کچھ اور احادیث میں وارد ہو ا ہے  ، او ران میں سے کوئی چیز بھی اس تحفظ کے منافی نہیں ہے  جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ نے آپ  سے وعدہ  کیا تھا۔ تو آپ اپنی ذات حیثیت میں جادو کے اثر سے بیمار بھی ہوسکتے تھے  ۔ نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے  یہ بات توقرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں بیا ن  کیا گیا ہے۔

کہ بابل میں ہاروت اور ماروت سے لوگ ایسا جادو سیکھتے تھے  جو شوہر اوربیوی میں جدائی ڈال دے ۔ یہ بھی ایک نفسیاتی اثر تھا ، اور ظاہر ہے کہ اگر تجربے سے لوگوں کو اس عمل کی کامیابی معلوم نہ ہوتی تو وہ اس کے خریدار نہ بن سکتے تھے۔ بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ بندوق کی گولی اور ہوائی جہازسے گرنے والے بم کی طرح جادو کامؤثر ہونا بھی اللہ کے اذن کے بغیر ممکن نہیں  ہے۔ مگر جو چیز ہزار ہا سال سے انسان  کے تجربے اور مشاہدے  میں آرہی ہو اس کے وجود کو  جھٹلا دینا محض ایک ہٹ دھرمی ہے

About admin

Check Also

خالی پیٹ گرم پانی پینے سے موذی بیماریوں کا آسان علاج ، صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے شیئر کیجئے

دل کے مشھور اسپیشلسٹ کا فرمانا ہے جس تک یہ تحریر پہنچ جاے اگر وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *