Breaking News

حضورﷺ کا ایک صحابی ؓ کو بتایا ہوا وظیفہ

مدینے کے سلطان رحمت عالم رسول اللہ ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے جسے کوئی مشکل پیش آئے اسے مجھ پر کثر ت سے درود پاک پڑھنا چاہئے کیونکہ مجھ پر درودپڑھنا مصبتوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے۔اس تحریر میں نبی پاک ﷺ کا ایک صحابی ؓ کو بتایا ہوا ایک خاص وظیفہ شیئر کیاجارہا ہے اس وظیفہ سے اتنا مال ملے گا کہ آپ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو تقسیم کرو گے یہ پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔آپ کا فرمان کوئی عام فرمان نہیں آپ کا فرمان پتھر پر لکیر ہوتا ہے تو آپ نبی ﷺ کا بتایا ہو ایہ وظیفہ کرلیجئے انشاء اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے آپ کو اتنا رزق ملے گا کہ آپ سے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا تو ہمارا رزق کس کے ذمے ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذمے ہے کہ بے روزگاری اور رزق کی تنگی پر گھبرانے والو شیطان کے وسوسوں پر نہ آؤ بارہویں پارے میں پہلی آیت میں ارشاد خداوندی ہے اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو تو ایک بہت مشہور ترین مفتی فرماتے ہیں

کہ زمین پر چلنے والے کا اس لئے ذکر فرمایا کہ ہم کو انہی کا مشاہدہ ہوتا ہے یعنی دیکھنا ملتا ہے ورنہ جنات ملائکہ وغیرہ سب کو رب عزوجل روزی دیتا ہے بچے کو ماں کے پیٹ میں اور ہر قسم کی روزی ملتی ہے اور پیدائش کے بعد دانت نکلنے سے پہلے اور طرح کے اور نکلنے کے بعد اور طرح کی روزی دیتا ہے بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک بار فقراء صحابہ کرام ؓ نے اپنا قاصد یعنی نمائندہ بھیجا جس نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی میں فقراء یعنی غریبوں کا نمائند بن کر حاضر ہوا ہوں مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہیں مرحبا اور انہیں بھی جن کے پاس سے تم آئے ہو تم ایسے لوگوں کے پاس سے آئے ہو جن سے میں محبت کرتا ہوں قاصد نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ فقراء یعنی غریبوں نے یہ گذارش کی ہے کہ مالدار حضرات جنت کے درجات لے گئے وہ حج کرتے ہیں اور ہمیں اس کی استطاعت یعنی طاقت و قدرت نہیں وہ عمرہ کرتے ہیں اور ہم اس پر قادر نہیں وہ بیمار ہوتے ہیں

تو اپنا زائد مال صدقہ کرکے آخرت کے لئے جمع کرلیتے ہیں آپﷺ نے ارشاد فرمایا میری طرف سے فقراء کو پیغام دو کہ ان میں سے جو اپنی غربت پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے اسے تین ایسی باتیں ملیں گی جو مالداروں کو حاصل نہیں پہلی جنت میں ایسے بالا خانے یعنی بلند محلات ہیں جن کی طرف اہل جنت ایسے دیکھیں گے جیسے دنیا والے آسمانوں کے ستاروں کو دیکھتے ہیں ان میں صرف فقر یعنی غربت اختیار نبی شہید اور فقیر مومن داخل ہوں گے دوسرا فقرا مالداروں سے قیامت کے آدھے دن کی مقدار یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے مالدار شخص سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا للہ واللہ اکبر کہے اور یہی کلمات فقیر بھی ادا کرے تو فقیر کے برابر ثواب مالدار نہیں پاسکتا اگرچہ وہ ہزار درہم بھی ساتھ میں صدقہ کرے دیگر تمام نیک اعمال میں بھی یہی معاملہ ہے قاصد نے واپس جا کر فقراء کو یہ فرمان مصطفیٰ ﷺ سنایا تو انہوں نے کہا ہم راضی ہیں ہم راضی ہیں توفقیروں کی تو دنیا و آخرت میں وارے ہی نیارے ہیں فقیر وہی اچھا ہے جو اللہ کی رضا پرراضی رہتے ہوئے صبرو قناعت اختیار کرے اور گلے شکوے سے بچا رہے ۔وظیفہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کو ہر نماز کے بعد معمول بنا لیجئے اور کوشش کیجئے کہ طاق اعداد میں پڑھئے اور اول و آخر درود پاک لازمی پڑھئے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

About admin

Check Also

کسی خوبصورت عورت کے شوہر نے اچانک داڑھی رکھ لی ، جب پڑوسن نے عورت سے پوچھا یکا یک تبدیلی کیسے آئی تو اس نے کیا جواب دیا ؟ ارشاد بھٹی کی ایک دلچسپ غیر سیاسی تحریر

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا ’’کچھ لوگوں کو ’کیسے ہو‘ نہیں بلکہ ’کیوں ہو‘ کہنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *