حضرت سید نا عامر ایک ہزار نوافل پڑھتے اور حممہ نامی شخص آٹھ سو رکعت نوافل پڑھتے۔

اس حکایت کے راوی حضرت سید نا جعفر السائح ؒ ہیں وہ فر ما تے ہیں: حضرت سید نا عا مر بن عبد قیس ؒ اپنے زما نے کے عابدوں میں سب سے افضل تھے انہوں نے اپنے اوپر یہ بات لازم کر لی تھی کہ میں روزانہ ایک ہزار فوافل پڑھوں گا چنانچہ وہ اشراق سے لے کر عصر تک نوافل میں مشغول رہتے پھر جب گھر آتے تو ان کے پنڈلیاں اور قدم متورم (یعنی سوجھے ہوئے ) ہوتے، ایسا لگتا جیسے ابھی پھٹ جا ئیں گے۔اتنی عبادت کے باوجودآپ ؒ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہتے اے برائیوں پر ابھا رنے والے نفس ! تو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے خدا عزوجل کی قسم میں اتنے نیک اعمال کر وں گا۔ کہ تجھے ایک پل بھی سکون میسر نہ ہوگا اور تو بستر سے بالکل دور رہے گا میں تجھے ہر وقت مصروف عمل رکھوں گا۔ ایک مرتبہ آپ ؒ ایک ایسی وادی میں تشر یف لے گئے جس کے با رے میں مشہور تھا۔ حضرت سید نا عامر بن عبد قیس ؒ کی ایک سمت میں رہتے اور حممہ عابد دوسری سمت میں رہتا ان دونوں کی عبادت کا یہ عالم تھا

کہ جب فرض نمازوں سے فارغ ہو جا تے تو نوافل پڑھنا شروع کر دیتے۔ اسی طرح ان دونوں بزرگوں کو اس ایک ہی وادی میں چالیس دان اور چالیس راتیں گزر گئیں چالیس دن کے بعد حضرت سید نا عامر بن عبد قیس ؒ حممہ ؒ کے پاس گئے۔ میں تجھے قسم دیتا ہوں تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ کہ تم کون ہو؟ وہ کہنے لگا: میرا نام حممہ ہے آپ ؒ نے فرما یا: اگر تو وہی حممہ ہے جس کے بارے میں مجھے خبر دی گئی ہے۔ میں تو بہت زیادہ سست اور کو تاہ ہوں ہاں میری یہ خواہش ہے کہ اگر فرض نمازوں کی وجہ س مجھے قیام و سجود نہ کر نا پڑتا تو میں اپنی ساری زندگی رکوع میں ہی گزارتا اور اپنا چہرہ کبھی بھی اوپر نہ اٹھا تا یہاں تک کہ میری زندگی تمام ہو جاتی اور اسی حالت میں اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جا ملتا لیکن کیا کروں فرائض کی وجہ سے مجھے قیام وغیرہ کر نا پڑتا ہے۔ اگر آپ وہی عامر بن عبد قیس ہیں جن کے بارے میں مجھے خبر ملی ہے تو پھر لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار آپ ہی ہیں آپ بتائیں کہ آپ کے اندر ایسی کون سی خوبی ہے جس کی وجہ سےآپ کو یہ مر تبہ ملا؟ ابھی آپ ؒ یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ اچانک بہت سے درندوں نے آپ ؒ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔

اور ایک خو نخوار درندہ آپ ؒ کے پیچھے سے آپ ہر چھلا نگ لگا کر آپ ؒ کے کندھوں پر سوار ہو گیا لیکن قربان جا ئیں آپ ؒ کی دلیر ی پر کہ آپ ؒ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ فر ما ئی۔ کچھ دیر بعد درندہ آپ کو نقصان پہنچائے بغیر وہاں سے چلا گیا یہ منظر دیکھ کر حممہ ؒ نے آپ ؒ سے پو چھا: جو منظر آپ ؒ نے دیکھا کیا آپ ؒ اس سے خوف زدہ نہیں ہوئے؟ آپ ؒ نے جواباً ارشاد فر ما یا: مجھے اس سے حیا آتی ہے کہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے ڈروں پھر حممہ ؒ نے کہا: کیا کروں مجھے اس پیٹ کی آزما ئش میں مبتلا کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کھا نا وغیرہ کھا نا پڑتا ہے اور پھر بول و براز کی حاجت ہو تی ہے۔ ایسی عظیم عبادت کے باوجود عاجزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو سست اور کوتاہ سمجھنا ان عظیم ہستیوں ہی کا حصہ تھا اور ایک ہماری حالت ہے کہ اولا تو عمل کرتے ہی نہیں اگر کبھی دو چار نوافل پڑھ بھی لیں۔ تو اپنے آپ کو اولیاء کی صف میں شمار کرنے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور عبادت گزار تصور کرنے لگتے ہیں اور اگر کہیں عاجزی کرتے ہیں تو وہ بھی جھوٹی عاجزی جس کی دل تصدیق نہیں کر رہا ہوتا۔ اللہ عزوجل ہمارے حالِ زار پر رحم فر ما ئے اور ان عظیم بزرگوں کی عبادت اور سچی عاجزی کے صدقے ہمیں بھی شرکت ِ عبادت اور سچی عاجزی کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے اور ان بزرگوں کے صدقے ہم بروں کو بھی بھلا بنائے۔ آ مین

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *