جگر ، معدہ ، پیٹ اور آنتوں کو

آج آپ لوگوں سے ایک ایسی پاکستا ن کی روایت جو کہ ہمارے پاکستا ن کی ایک روایت بھی ہے نہ کہ صرف پاکستان بلکہ ہمارے براعظم کی روایت ہے جس کے اندر اس روایت اللہ تعالیٰ نے بے شمار فوائد کو چھپا کر رکھا ہے اس روایت میں نہ صرف غذائیت ہے۔ غذائیت کے ساتھ ساتھ مزا ہے۔ اور اس مزے کےساتھ ساتھ ہمارے بدن کے لیے اور ہمارے بدن کے اندر جو چلنےوالے ان گنت نظام ہیں۔ ان نظاموں کےلیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہترین تحفہ ہے۔ وہ روایت جو صدیوں سے براعظم ایشیا میں پوری دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ وہ روایت ہمارے ملک پاکستا ن میں بنایا جانےوالا”اچار” ہے۔ اچار صدیوں سے اس خطے کی ایک پہچان ہے۔ جس کو کھانےکے ساتھ استعمال کرنا ہمارے بڑوں کی ایک خوبصورت روایت ہے۔

یہ اچار خوبصورتی کے اعتبارسے دیکھنے کے اعتبار سے اور اس اچار کے اندر جو بھی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں۔ا یک ایک اجزاء کے اوپر پورا پورا ایک لیکچر دیا جاسکتا ہے۔ اچار کےاندر جو سرسوں کاتیل ہے۔ اس کی خوبیاں اپنی جگہ اور اس کے اندر پائی جانے والی کلونجی جو ہے۔ اس کی خوبیاں اپنی جگہ ، جس کے بارے میں پیارے پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کالے دانے میں م و ت کے سوا ہر بیماری کی شفاء ہے۔ اس اچار کے اندر پائے جانے والی جو میتھرے ہیں۔ آج کی ماڈرن میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی ہارمون ان بیلنس ہونے کے اسباب ہیں۔ اس کی سب سے بہترین دوائی یہ میتھرے ہیں۔ یہ میتھی دانہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اچار کے اندر پایا جانے والا جو بہترین سونف ہے۔ اجوائن ہے۔

اس میں پائے جانےوالے جو مصالحہ جات ہیں۔ وہ ایک ایک مصالحہ پورا پورا لیکچر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ اچار وہ خوبصورت روایت ہے جس کو ہمارے نانیاں ، دادیاں اپنے گھروں میں بنایا کرتی تھیں۔ اور خاص طور پر جب سیزن آتا تھا۔ آم کا سیزن آیاتو گھروں میں ایک لمبا چوڑا اچاربنانے کا فیسٹول منایا جاتاتھا۔ ایک خوبصورت پروگرام ہوتا تھا۔ جس میں بہت سارے خاندان افراد مل کر باقاعدہ اچاربنانےکے اوپر ایک پورا کانفرنس ہال سجتاتھا۔ اچار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک وہ بہت بڑی نعمت جس کو آج ہم لوگوں نے اگنور کردیا۔ اگرآپ اس کو میڈیکلی پوائینٹ سے دیکھیں ۔ محبت کے اعتبار ، تحفے کے طور پر دیاجانےوالا اچار آج بھی یا دآتا ہے۔ جب نانی اچار بنایا کرتی تھی ۔ وہ گھروں میں آکر دیا کرتے تھے ۔

ہم اپنے محلوں میں ہمسائیوں میں تقسیم کرتے تھے اس سے جو محبت پھیلتی تھی اور اس کے کھانے کے اوپر اور اس اچار کے اوپر جو آم کے پیس اور جو رسولے کے پیس اور جو چنے کے پیس اور جو اس کے اندر لیموں اور اچار کے اندر جو بے شمار اجزاء سبزمرچ کے طور ، گاجر کے طور پر یہ وہ چیزیں تھیں۔ جو ہماری صحت کےلیے سو فیصد آرگینک تھیں۔ جس کو کئی ماہ نہیں کئی سال تک ہم محفوظ کرکے رکھ سکتے تھے۔ اچار آج ہماری زندگیوں سے دھیرے دھیرے پیچھے جارہا ہے ۔ فطرت میں طاقت ہے۔ فطرت میں عزت ہے۔ فطرت میں قوت ہے۔ فطرت میں ہمارے گھروں کی زندگیاں آباد ہیں۔ فطر ت کو مت چھوڑو۔ واپس اپنی فطرت پر لوٹو۔ یہ اچار نہیں ہے۔ یہ ذائقہ نہیں ہے۔ اس کے اندر جو کھٹاس ہے۔

یہ جو وٹامن سی کا بنڈل ہے اور آپ جانتے ہیں وٹامن سی ہمارے امیون سسٹم کو بوسٹ کرتا ہے ۔وٹامن سی ہمارے اندر بیماریوں سے لڑنے کی جو طاقت ہے۔ اس کو بوسٹ کرتا ہے۔ وٹامن سی کینسر کا بہترین علاج ہے۔و ٹامن سی آپ کے جسم کےاندر ، آپ کے امیون سسٹم کو بوسٹ اپ کرنےمیں سب سے بڑا کمال کا جو اللہ تعالیٰ نے عناصر رکھیں ہیں۔ وہ وٹامن سی کے اندر ہیں۔ اور اچار کے اندر وافر مقدار میں وٹامن سی ہے۔ وہ لو گ جن کا خ ون رکتا نہیں ہے بلیڈنگ ہوجائے تو ان کابلڈ رکتا نہیں ہے۔ اچار ان کی بہترین دوائی ہے۔ آپ کے جی ۔آئی ۔ٹی ٹریک کےلیے اور خاص طور پر اس اچار میں جو کلونجی اور میتھی دانہ ہے یہ ہربیماری کا علاج ہے۔ اس کے اندر جو سرسوں کا تیل ہے ۔ آپ کی قبض کو ختم کرنے کی بہترین دوائی ہے۔

آپ کے کولیسٹرول کو لیول پر لانےکی بہترین دوائی ہے۔ آپ کے ٹرائی گلیسرائیڈ نیچے لانےکی بہترین دوائی ہے۔ آپ کے ایچ۔ڈی ۔ایل کو بڑھاتا ہے۔ ایل ۔ڈی ۔ایل ،وی ۔ایل۔ڈی ۔ ایل کونیچے لے کر آتا ہے۔ یہ صرف اچار نہیں ہے۔ یہ آپ کے باؤلز کی جو مسائل ہیں۔ خاص طور پر جو جی ۔آئی ۔ٹی جو گیسٹر و انٹل سٹائنل ٹریک کے مسائل ہیں جس میں ایسڈیٹی ہے۔ جس میں آئی ۔بی ۔ایس ہے ۔جس میں فیسٹولا ہے۔ جس میں آپ کے ہیو مو رائیڈز ہیں۔ پائیلز ہیں۔ اس کی بہترین دوائی ہے۔

About admin

Check Also

”حضرت موسیٰؑ جب کوہ طور کی طرف جانے لگے توراستے میں ایک نیم برہنہ“

حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف جانے لگے تو راستے میں ایک شخص …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *