Breaking News

جو شخص دولت میں اضافہ چاہتا ہے تو یہ عمل کرے

رسول الہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں برکت آئے اس کے مال میں فراوانی آجائے اس کو چاہئے کہ رشتے داروں سے اچھا برتاؤ کرے ہوسکتا ہے رشتہ دار آپ کو تکلیف دیں لیکن حکم کیا ہے سلما قطعک جو توڑتا ہے اس سے جوڑو وعفو عم من ظلمک جو ظلم کرتا ہے اسے معاف کرے جو آپ کو محروم کرتا ہے تم اسے عطا کیا کرو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رشتہ داروں کے بعد ایک سچے مسلمان کی ذمہ اری یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا ہے الرجل علی دین خلیلہ فالینظر الی من یخالف دوست اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ہر ایک کو چاہے کہ دوست بناتے وقت سوچ لیا کرے بلکہ اللہ کے رسول نے فرمایا لاتصاحب الا مؤمنا ساتھی اس کو بناؤ جو مومن ہو ولا یاکل الطعامک الا تقی تمہارا کھانا متقی کھائے دوستوں میں سے انسان نیک لوگوں کو استخلاص کریں ان کی سیلیکشن کرے عن المرء لا تسئل وسئل عن قرینہ وکل قرین بالمقارن یقتدی کسی کی بارےمیں پوچھنا ہو تو اس کے دوستوں کے بارے میں پوچھو اس کے دوست کیسے ہیں ہر بندہ اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

اسی طرح ہی ان چیزوں کو پسند کرتا ہے جس طرح دوست پسند کرتے ہیں اس کے بعد پڑوسیوں کا حق ہے ایک سچا مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مازال جبریل یوصینی بالجار اتنی بار پڑوسیوں کے بارے میں تاکید کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کہ مجھے محسوس ہوا اب جبریل آئیں گے اور ان کو وراثت کا حقدار بھی بنا دیں گے پڑوسیوں کے بعد عام لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھنے کا حکم ہے اور سچا مسلمان وہ ہوتا ہے جس کا اخلاق بلند ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس لئے فرمایا تھا کہ جس شخص کا اخلاق اچھا ہے قیامت کے دن ہوگا جہاں تہجد گزار ہوں گے جہاں روزے دار ہوں گے وہاں اچھے اخلاق والا بھی ہوگا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انا من احبکم واقربکم منی مجلسا یوم القیامہ احاسنکم اخلاق تم میں بہترین وہ ہے اور سب سے قریب میرے قیامت کے دن وہ ہوگا

جس کا اخلاق اچھا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

About admin

Check Also

کوفہ میں ایک خوبصورت نوجوان ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتا

حضرت احمد بن سعید رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد محترم سے نقل کرتے ہیں۔ ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *