جب کوئی غم یا پریشانی آجائے تویہ 2لفظ پڑھنا شروع کردیں انشاءاللہ ہر پریشانی فوری ختم ہوجائے گی اور ہرحاجت پوری ہوگی

زندگی میں غم اور پریشانیاں تو ہرانسان کو آتی ہیں کبھی بھی ان غموں اور پریشانیوں سے گھبرانا نہیں ہے چاہیے جب کوئی غم آئے کوئی پریشانی آئے تو اپنا سارا غم اپنا سارا دکھرا اللہ کو سنائیں اسی طرح غموں اور پریشانیوں کے لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں سورہ کہف میں فرمایا اللہ کو پکارواس کے صفاتی ناموں کے ساتھ اسی طرح اللہ تعالی کے دو صفاتی نام یا قادر یا نافع جو بڑا اثر رکھتے ہیں

جو شخصدل کی گہرائیوں سے ان ناموں کو پڑھے گا انشاءاللہ تعالی ہر حاجت پوری ہوگی توناظرین جب بھی کوئی پریشانی آئے کوئی مسئلہ اچانک کوئی مصیبت آجاتی ہے تو یہ دو نام یا قادر یا نافع فورا اس کا ورد شروع کر دیں انشاء اللہ تعالی ناظرین اس کے کرنے سے کوئی بھی پریشانی ہوگی کوئی بھی غم ہوگا کوئی بھی تکلیف ہوگی انشاء اللہ تعالی فورا دور ہو جائی گیمگر پریشان نہیں ہونا چاہیے گھبرانا نہیں چاہیے کوئی بھی غم کوئی بھی پریشانی آئے تو فورا یا قادر یا نافع کا ورد شروع کر دینا چاہیے انشاءاللہ کوئی بھی حاجت ہوگی پوری ہو جائے گیاہل مغرب نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت پروپیگنڈا کر رکھا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس طرح کے حقوق اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں

اس کا تصور دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔قرآن و حدیث کی تعلیمات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہترین خاوند اسی شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنی اہلیہ کی تمام ضروریات اپنی حیثیت کے مطابق پوری کرتا ہے۔اسلام میں عورت کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ مرد کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ چاہے تو اپنی اہلیہ کے اخراجات اٹھائے اور چاہے تو اس پر ہی اِن کا بوجھ ڈال دے، بلکہ اس پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے اخراجات کا مناسب طور پر اہتمام کرے،البتہ اسے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق جتنا ممکن ہو خرچ کرے۔ خصوصاً جب کوئی خاتون بچے کی پرورش کر رہی ہو تو اس کی تمام ضروریات کا بہترین ممکن طور پرخیال رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔

اسلام نے گھریلو مسائل کے بطریق احسن حل کے لئے یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ محدود ذرائع والا خاوند اپنی اہلیہ پر اپنے محدود ذرائع کے مطابق اخراجات کرے اور جو صاحب حیثیت ہے اس پر لازم قرار دیا گیا ہےکہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کھل کر خرچ کرے۔ یعنی مرد بخل سے کام نہ لے بلکہ جہاں تک اس کی گنجائش ہو اہلیہ کی جائز ضروریات کے لئے بخوشی خرچ کرے

About admin

Check Also

سطح

ایک دن جنگل میں گدھے نے دعویٰ کیا کہ آسمان کالا ہے‘ بھیڑیے نے کہا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *