جب نیند سے آنکھ کھل جائے تو۔۔۔؟؟

ایک مرتبہ شخص امام علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض ہوا ۔ اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی ! رزق میں برکت نہیں   ہے۔ گھر کی پریشانیاں ختم  نہیں ہوتیں۔ کوئی ایسا حل ، کوئی ایسی دعا بتائیں ۔ جس کا خاص مجھ پر اور میرے گھر پر ہو۔ امام علی ؑ نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول سے سنا جو انسان صبح کا آغاز ” بسم اللہ ” پڑھ کر کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس پر اور اس کے گھر میں ایک نور برستا ہے ۔ جس سے گھر کےتمام مسائل ختم ہوجاتےہیں۔ اور رزق کی غیبی اسباب منظرعام پر آتے  ہیں۔ تو ہمیں ایسا کرنا چاہیے کہ دن کےآغازمیں اللہ کا نام لے کر دن کاآغاز کریں۔ جب نیند سے آنکھ کھلے۔ تو سب سےپہلے اللہ تعالیٰ کو یادکرنے کی عادت  اپنے وجود میں ڈال دیں۔ کیونکہ امام علی ؑ نے فرمایا: جو انسان جیسے آنکھ کھلتے وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے ۔تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے جاؤ اس  کےلیے وہ وہ چیزیں زمین پر پیدا کرو۔

جو یہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ اور یوں انسان کے تمام مسئلے مسائل ختم ہوجاتےہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم اپنے گن اہوں کی معافی مانگیں۔ جنت کی طرف ایک قدم اور بڑھاسکیں۔ حضرت ابی مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا طہارت (صفائی ستھرائی) نصف ایمان ہے اور الحمدللہ ترازو کو بھر دے گا (یعنی اس قدر اس کا ثواب ہے کہ اعمال تولنے والا ترازو اس کے اجر سے بھرجائے گا) اور سبحان اللہ اور الحمدللہ دونوں (اجر و ثواب کے اعتبار سے) آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیں گے اور نماز نور ہے اور صدقہ (مومن ہونے کی) دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن یا تو تمہارے موافق دلیل ہوگا ( اگر سمجھ کر پڑھا اور اس پر عمل کیا) ورنہ تمہارے خلاف دلیل ہو گا (اگر اس کا مرتبہ نہ جانا اور عمل نہ کیا) ہر آدمی جب صبح کو اٹھتا ہے

تو اپنے آپ فروخت کردیتا ہے (یا نیک کام کرکے اپنے آپ کو آزاد کرتا ہے یا برے کام کرکے اپنے آپ کو تباہ کرلیتا ہے)۔حضرت ابو حمید یا ابو اسیدانصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسجد میں داخل ہو وہ نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھے پھر کہے اللہم افتح لی ابواب رحمتک (اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) جب مسجد سے نکلے تو اس طرح کہے اللہم انی اسئلک من فضلک (اے اللہ میں آپ سے تیرا فضل چاہتا ہوں)۔حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تمہارے افضل (بہتر) دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے پس اس روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے تو لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہڈیاں تو بوسیدہ ہوجائیں گی تو پھر ہمارا درود آپ پر کس طرح پیش کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو مٹی پر حرام قرار دے دیا ہے (ان کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی)۔

About admin

Check Also

”حضرت موسیٰؑ جب کوہ طور کی طرف جانے لگے توراستے میں ایک نیم برہنہ“

حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف جانے لگے تو راستے میں ایک شخص …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *