Breaking News

ایک ہی پودے میں آلو،ٹماٹر اوربینگن ،تصاویردیکھ کرآپ چونک جائیں گے

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ بیگن کے پودے میں کیا اگے گا؟ یا پھر پوچھا جائے کہ ٹماٹر کے پودے پر کون سی سبزی اگتی ہے؟ تو ظاہر سی بات ہے آپ کا جواب ہو گا کہ بیگن کے پودے میں بیگن اور ٹماٹر کے پودے میں ٹماٹر۔ لیکن وارانسی میں انڈین ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تحقیق کے بعد ایسے پودے اگائے ہیں جس میں دو الگ الگ پودے لگ رہے ہیں۔یقین نہیں ہوتا تو دیکھئے تصویریں۔

یہ باغ وارانسی کے شہنشاہ پور واقع انڈین ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹکا ہے۔ تصویروں میں آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ بیگن اور ٹماٹر ایک ہی پودے میں اگے ہیں۔ وہ بھی کافی مقدار میں۔یہی نہیں، اگلی تصویر دیکھئے۔ اس میں ایک ہی پودے میں دو سبزی لگی ہے۔ زمین کے اندر جڑ میں آلو اور اوپر تنے پر ٹماٹر جس کا نام دیا گیا ہے پومینٹو۔ یعنی پوٹیٹو کے ساتھ ٹومیٹو۔ تحقیق کے بعد یہ کمال ہوا ہے گرافٹنگ تکنیک سے۔انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جگدیش سنگھ کی دیکھ ریکھ میں پرنسپل سائنسداں ڈاکٹر اننت بہادر سنگھ اور ان کی ٹیم نے سائنس کی مدد سےیہ کرشمہ کر دکھایا ہے۔انسٹی ٹیوٹ نے پہلے آلو کے ساتھ ٹماٹر اور بیگن کے ساتھ ٹماٹر کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ اب اگلی کڑی میں ایک ہی پودے میں آلو ٹماٹر اور بیگن یا پھر ٹماٹر، بیگن کے ساتھ مرچ اگانے پر تحقیق چل رہی ہے۔

یہ تحقیق کرنے والے انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل سائنسداں اننت سنگھ بہادر نے بتایا کہ ایسے خاص پودے تیار کرنے کے لئے 24۔28 ڈگری درجہ حرارت میں 85 فیصد سے زیادہ رطوبت اور بغیر روشنی کے نرسری حالت میں تیار کی جاتی ہے۔گرافٹنگ کے 15۔ 20 دن بعد اسے کھیت میں بویا جاتا ہے۔ ٹھیک مقدار میں کھاد، پانی اور کانٹ چھانٹ کے بعد یہ پودے روپائی کے 60۔70 دن بعد سبزی اگاتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جگدیش سنگھ نے بتایا کہ گرافٹنگ تکنیک کا استعمال 2013۔14 میں شروع ہوا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ کسانوں کو ہو گا۔ خاص طور پر ان علاقوں کے کسانوں کو جہاں برسات کے بعد کافی دنوں تک پانی بھرا رہتا ہے۔

About admin

Check Also

کسی خوبصورت عورت کے شوہر نے اچانک داڑھی رکھ لی ، جب پڑوسن نے عورت سے پوچھا یکا یک تبدیلی کیسے آئی تو اس نے کیا جواب دیا ؟ ارشاد بھٹی کی ایک دلچسپ غیر سیاسی تحریر

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا ’’کچھ لوگوں کو ’کیسے ہو‘ نہیں بلکہ ’کیوں ہو‘ کہنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *