ایک لڑکا حضور اکرمﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا

ایک خوبصورت جوان مسجد کے پاس کھڑا ھوا اس طرح رو رہا ہے جیسے اس کی ماں م۔رگئی ہو، وہ چاہتا ہے آپ سے ملاقات کرے، چنانچہ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا:اس کو مسجد میں بھیج دو، وہ جوان مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرمﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے جواب سلام دیا اور فرمایا: اے جوان! رونے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا:میں کیوں نہ روؤں حالانکہ میں نے ایسے ایسے گ۔ناہ انجام دیے ہیں کہ خداوند عالم ان میں سے بعض کی وجہ سے مجھے ج۔ہنم میں بھیج سکتا ہے۔

میں تو یہ مانتا ہوں کہ مجھے میرے گناہوں کے بدلے دردن۔اک ع۔ذاب دیا جائے اور اللہ پاک مجھے بالکل معاف نہیں کرسکتا ۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تونے خدا کے ساتھ شرک کیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں ، میں شرک سے پناہ چاہتا ہوں ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کیا کسی نفس محترمہ کا ق۔ت۔ل کیاہے؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا: خدا تیر ے گناہوں کو بخش دے گا اگرچہ بڑے بڑے پہاڑوں کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اس نے کہا : میرے گناہ بڑے بڑے پہاڑوں سے بھی بڑےہیں، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو ضرور بخش دے گا چاہے وہ ساتوں زمین، دریا، درخت ،ذات اور زمین میں دوسری موجوات کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، بے شک تیرے گناہ ق۔ابل بخش ہیں اگرچہ آسمان ، ستاروں اور عرش وکرسی کے برابر ہی کیوں نہ ہوں!اس نے کہا میرے گناہ اس سے بھی بڑے ہیں آپؐ نے فرمایا : اے جوان افسوس ہے تیرے اوپر تیرے گنا ہ بڑے ہیں یا تیر ا خدا بڑا ہے۔

یہ سن کر وہ جوان سجدے میں گرپڑا ار کہا: پاک وپاکیزہ ہے میرا پروردگار، یا رسول اللہ ؐ!میرا خدا تو ہر عظیم سے عظیم تر ہے ۔اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا:اے جوان ! کیا تو مجھے اپنے گناہوں میں سے کسی ایک گنا ہ کو بتا سکتا ہے۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ، میں سات سال سے ق۔بروں کوکھول کر م۔ردوں کو باہر نکالتا ہوں اور ک۔فن چوری کرلیتاہوں!قبیلہ انصار سے ایک لڑکی کا ان۔ت۔ق۔ال ہوا، اس کا ک۔فن نکال لیا اوراس کو ب۔رہ۔ن۔ہ ہی ق۔بر میں چھوڑدیا، شی۔ط۔ان نے مجھے ورغلایا ، اس کی خوبصورتی نے مجھے اپنے جال میں پھ۔نسا لیا،واپس لوٹا، اور جو کام نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کربیٹھا۔اس وقت ایک آواز سنی اے جوان! روز قی۔امت کی طرف سے تجھ پر وائے ہو! جس دن بارگاہ میں پیش کیا جائےگا ، تونے مجھے مردوں کے درمیان ب۔رہ۔ن۔ہ۔ کر دیا ہے ، مجھے ق۔بر سے نکالا،میرا ک۔فن لے چلا اور مجھے ج۔ن۔اب۔ت کی حالت میں چھوڑ دیا، اور روز قی۔امت اسی حالت میں محشربھی جاؤں گی ، واے ھو تجھ پر آت۔ش ج۔ہنم کی!یہ سن کر آپ ؐ نے فرمایا: آپ ؐ نے بلند آواز میں پکارا اے فاس۔ق! یہاں سے دور چلاجا میں ڈرتاہوں کہ تیرے ع۔ذاب میں میں بھی جل جاؤں! تو آت۔ش جہنم سے کتنا نزدیک ہے؟

!وہ شخص مسجد سے باہر نکلا اور شہر سے باہر پکارتا جاتا تھا: اللہ پاک !یہ بھولا ہوا تیر ا بندہ ہے، میرے گناہوں کو بھی جانتا ہے ۔ توبہ کےلیے تیرے پیغمبر کے پاس گیا تھا لیکن اس نے مجھے دور کردیا ہے۔ تجھے تیر ی عزت و جلال ار سلطنت کا واسطہ کہ مجھے ناامید نہ کر ، وہ چالیس دن تک دعا و مناجات اور گریہ و زاری کرتا رہا، جنگل کے درند ے اور حی۔وانات اس کے رونے سے روتے تھے۔ بارگاہ الہیٰ میں عرض کیا : پالنے والے ! میری دعا قبول اور گناہ بخش دے تواپنے پیغمبر کو اس کی خبر دے ،اگر میری دعا قبول نہ ہوئی اور گناہ نہ بخشے نیز مجھ پر ع۔ذاب کرنے کاارادہ ہو تو میرے اوپر آت۔ش فرما میں ج۔ل جاؤں ، بہرحال روز قیامت کی ذلت ورسوائی سے مجھے نجات دیدے۔تو یہ آیات نازل ہوئیں:”اور وہ یہ لوگ ہیں کہ جب کوئی نمایاں گن۔ا ہ کرتے ہیں یا اپنے نف۔س پرظلم کرتے ہیں تو خدا کو یاد کرکے اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہ اپنے کئے جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جزاء مغفرت ہے۔ اور وہ جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہنے والے ہیں اور عمل کرنے کی یہ جزاء بہتر ین جزاء ہے”۔

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *