ایک شوہر نے شادی کی پہلی رات ہی اپنی بیوی سے انکار کردیا، اورپھر بیوی آگے بڑھی اور

اپنی نئی نویلی سانولی رنگت کی بیوی کو دیکھ کر

اس کا دل بجھ سا گیا وہ دل کو موہ لینے والی بیوی چاہتا تھا۔ مگر اس کی دلہن میں تو کوئی کشش ہی نہیں تھی اس کے اندر سرد جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ دماغ جیسے ماؤف ہورہا تھا۔ کتابوں کی ترتیب کے بعد عمر زلیخا کی طرف پلٹا اور بولا دیکھیں میں کتا بی کیڑا ہوں، آپ کے

لیے ایک کتاب کا انتخاب کیا ہے “تحفتہ العروس” یہ صنفزنازک کے موضوع پرپہلی جامع اور دلکش کتا ب ہے۔ امید ہے آپ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے ۔ انشاءاللہ زلیخا جھکے اور دھیمے لہجے سے صرف جی بول پائی۔ زلیخا جوان ، جذبات، احساسات رکھنے والی لڑکی تھی ۔ اسکے رویے کوسمجھ گئی اور لباس تبدیل کرنے کے لیے کونے میں پڑے سوٹ کیس کا رخ کیا اور سفید کاٹن کا سادہ سا شلوار قمیض نکالااور دعا پڑھتے ہوئے وہ واش روم کے اندر تھی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر اپنے بے قابو آنسوؤں کی جھڑی کو نا روک پائی خوب آنسو بہاکر شاور لیا اور باہر نکلنے سے پہلے چاروں طرف دوپٹا لپیٹ کرماتھے پرہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا باہر آئی تو عمر عشاء کے لیے جاچکا تھا۔ تو اس نے بھی عافیت نماز میں ہی جانی اور پوری خشوع کے ساتھ نماز شروع کرلی۔ اور اپنی نماز کو تسلی سے مکمل کی اپنے مرمریں ہاتھوں کو اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے پھیلادیا اے میرے رب میرے شوہر کے دل میں میرے لیے محبت اور الفت پیدا کر، مجھے ان کی نظروں میں پرکشش بنادے ۔ آمین ۔ آنسو تمام بند توڑ کر لگاتار اس کے سوتی دوپٹے کو گیلا کیے جارہے تھے ۔ ایک دم آہٹ سن کر اس نے اپنے چہرے کو رگڑ ڈالا اور لپک کر بستر پر پڑی تحفتہ العروس

کے اوراق الٹنا پلٹنا شروع کرئیے ۔ دوبارہ سے مردانہ سلا م نے اس کے دل پر دستک دی پھر وہی دھیما اندازاور جھکی جھکی گردن سے جواب آیا سنیں عمر پکار جی زلیخا کا جواب آپ نے کھانا کھانا ہے میں امی کو بولتا ہوں آپ کو گرم کردیں۔ جی نہیں شکریہ ، مجھے بھو ک نہیں ہے۔ دو دنوں سے سفر کی تھکاوٹ ہے اور آپ بھی لمبے سفر سے آئی ہیں آرام کریں زلیخا کسی روبوٹ کی طرح اٹھی اور بستر کے ایک کونے میں لیٹ کر خود کو اپنے دوپٹے میں لپیٹا اور اذکار مسنونہ میں مشغول ہوگئی ادھر دوسری طرف بھی یہی سلسلہ جاری تھا۔ نیند کے آثار دنوں طرف دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے تھے لیکن راہ فرار کا یہی ایک ذریعہ تھا ۔ زلیخا باربار اس نقطہ کو سوچے جارہی تھی کہ کیا میر ی نادرا والی تصویر عمر کو نہیں دکھائی گئی جبکہ ان کی امی جان نے ممانی سے خاص درخواست کرکے عمر کو دیکھانے کے لیے لی تھی ۔ پھرآخر کیا ہوا ہے جوان کی آنکھوں میں میرے لیے کسی قسم کے جذبات نہیں ہیں مجھے تو ان لوگوں نے تصویر دکھا دی پر اپنے بیٹے کو کیوں نا دکھائی ۔ میں تو رشتوں سے ترسی ہوئی ہوں۔ بچپن میں والدین کا انتقال ، نہ کوئی بہن اور نہ کوئی بھائی اور اب شو ہر ملا ہے ۔ وہ اتنا قریب ہوکے بھی کوسوں دور ہے ۔ دل میں ٹھیس اٹھی اور آنکھوں نے

کھل کر برسنا شروع کر دیا۔ دل شدت غم سے نڈھا تھا۔ اگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہیں تو میں کبھی ان کو مجبور نہیں کروں گی ہاں اپنے حقوق ضرور پورے کروں گی۔ جو کہ میری تربیت کا حصہ ہیں۔ رات کے دو بجے رہے تھے زلیخا چپکے سے دھیمی چال سے کمرے سے نکل کر واش روم میں گئی اچھی طرح سے وضو کیا چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور واپس خاموشی سے کونے پڑے جائے نماز پر کھڑی ہوگئی نوافل میں طویل قیام کے بعد اپنے مرمری ہاتھ اپنے رب کے سامنے پھیلا دیے۔ پھر وہی برسات کا سلسلہ او ر سینے میں تڑپ، کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود اپنی پیشانی کو دوبارہ سجدہ ریز کردیا اور خوب گڑ گڑائی ، میرے مالک میری اس آزمائش کو آسان کر، بے شک توہی مشکل کشا ہے ۔ طویل دعاؤں کے بعد دل میں اطمینان محسو س ہونے لگا۔ اتنے میں فجر کی آذان سنائی دی عمر تو نجانےرات کے کس پہر نیند کی گہری وادی میں اتر چکا تھا اب زلیخا اس شش وپنج میں تھی کہ عمر کو اٹھاؤں یا نا اٹھاؤں ۔ سو چ بچار کے بعد زلیخا نے عمر کے پاؤں کو ہلکا سا جھنجھورا لیکن وہ گھوڑے بیچ کر سورہا تھا۔ آخر تیسری کوشش پر ہڑ بڑا گیا آنکھیں ملیں تو دیکھا زلیخا بولی آپ کی فجر کی نما زنکل جائے گی عمر دل ہی دل میں خوش ہوا

چلو محترمہ نما ز کی تو پابند ہیں فوراً اٹھ کھڑا ہوا، وضو کرکے مسجد کا رخ کیا۔زلیخا نے فجر ادا کی اور تلاوت کلا م پاک شروع کردی۔ زلیخا کی تلاوت نے عمر کو دروازے کے باہر کھڑے ہوکر سننے پر مجبور کردیا۔ اتنی خوبصورت آواز اور شیریں لہجہ اس نے آج تک نہ سنا ۔ وہ دل ہی دل میں داد دے گیا۔ عمر کمرے میں داخل ہوا بابا نے آواز لگائی ، جی بابا جان فرمائیے وہ بیٹا مجھے لگتا ہے ہمیں تو کل اتوار کا ولیمہ ملتوی کرنا پڑے گا۔ سب خیریت ہے نا بابا جان۔ تھوڑی دیر قبل تمہارے پھوپھا کا فون آیا تھا، تمہاری پھپھو کافی بیمار ہیں اس لیے مجھے کھاریاں جانا پڑے گا۔ بابا جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ امی کی آواز آئی باجی نصر ت کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا ہے۔ زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں لہذا میرا جانا بنتا ہے۔ پر عمر کی ماں یہاں نئی نویلی دلہن اکیلی ہے اس کو گھر کی کسی چیز کا پتا نہیں ہے ۔ بابا بولے عمر کی ماں پھر سے سوچ لو ارے آپ کیوں گھبراتے ہیں میرا عمر ہے نا زلیخا کا خیال رکھنے کے لیے یہ سن کر ایک دم سے زلیخا کے دل میں ٹھیس اٹھی اور چند سیکنڈوں میں امی اور زلیخا کچن میں جا چکے

تھے ۔ بابا بولے ہماری غیر موجودگی میں تم نے نے بہو کا خاص خیا ل رکھنا ہے ۔ اس بچی نے یتیمی کی زندگی گزاری ہے۔ باباآپ گھبرائیں نہیں میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ بہو کو تھوڑی دیر باہر لے جانا یا ایک چکر مری کا لگا لینا سوچوں میں گم عمر فوراًجی ہی بو ل پایا۔اچھا بیٹا ہم ابھی ناشتے کے بعد نکلیں گے ۔ عمر دوبارہ سونے کے لیے پرتولنے لگا۔ جبکہ زلیخا امی کے ساتھ گوش گپیوں میں مصروف ہوگئی اور ساتھ ساتھ ہر چیز کا جائزہ بھی لینے لگی ۔ ماموں کے گھر کتنی غربت تھی اور یہاں ہرچیز کتنی نفیس ہے ۔ کاش ان چیزوں کا مالک بھی میرا ہوجائے میں تو عمر کے ساتھ اکیلی رہ جاؤں گی۔ اور انہیں تو میرے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ عمر نے پانچ منٹ بعد روکتے ہوئے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے جی وہ میں کپڑے دھو رہی ہوں اچھا تو یہ مشین کس خوشی میں پڑی ہے صرف گھر کی خوبصورتی کےلیے آپ کو پتا ہے آپ کو ن ہیں جی مجھے پتا ہے میں زلیخا مراد ہوں عمر ہنسی چھپاتے ہوا کے جھونکے نے ماتھے پرآئے بالوں کو الجھا دیا اور صابن والے ہاتھوں سے ان کو پیچھے ہٹایا عمر کی ہنسی چھوٹ گئی یہ کیا حال بنایا ہوا ہے شکل دیکھیں آئینے میں اپنی ذرا زلیخا نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن آئینہ نظر نہ آیا چھوڑیں آئینہ کو میں خود صاف کر

دیتاہوں۔ اور پھر پوچھا آپ کو کھاناپکانا آتاہے۔ حیران ہوتے ہوئے پرجوش لہجے میں زلیخا نے فوراً جواب دیا۔جی مجھے سب کچھ کرنا آتاہے ۔ اچھا ماشاءاللہ عمر بولا! پھر تو آپ کو مکانوں کی تعمیر کاکام بھی جانتی ہوں گی۔ بے ساختہ زلیخا کی ہنسی چھوٹ گئی اور عمر نے بھی زور کا قہقہہ لگایا میں باہر سے ناشتہ لاتا ہوں۔ باہر سے ناشتہ نہ لائیں میں نے تو پراٹھوں کے لیے مصالحہ اورآٹا تیار کررکھا ہے۔ آپ کچھ بھو ل رہی ہیں کہ آپ نئی نویلی دلہن ہیں ۔ اور ایسے کارنامے سرانجام نہیں دیتی۔ بلکہ نخرے اٹھواتی ہیں ۔ یہ سب میری تربیت کا اثر ہے اور ویسے بھی مجھے فارغ بیٹھنا پسند نہیں ہے۔ فارغ انسان تو شیطان کا گھر ہے عمر بڑے انہماک سے اس کی باتیں سن رہاتھا اچھا جی جیسے آپ کی خوشی و ہ گویا ہوا یہ بڑھ کر اس کو مضبوطی سے تھام لیا اور بولا محترمہ آپ کے یہ شوق میرا کچومر نکال دیں گے ۔ اگر کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی تو بابا نے میر ی ہڈیاں بھی توڑ دینی تھی لہذا ہوش کے ناخن لیں زلیخایکدم سنبھلی اور شرمندگی سے بولی کوشش کروں گی آئندہ شکایت کاموقع نہیں دوں گی۔ جائیں جا کر کپڑے بدلیں میں سب فارغ کرتا ہوں۔ کمرے میں آکر لمبی سانس کھینچی سوٹ کیس سے سادہ سا فیروزی سوٹ نکالاشاور لیا اور سیدھی کچن میں پراٹھے بنانے لگی با ہر

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *