”ایک شخص تھا جب وہ کام پر چلا جاتا تو اس کی تین بیٹیاں گھر سے باہر جا کر بادشاہوں سے۔۔۔“

حضرت لقمان ایک شخص کے غلام ہوئے وہ شخص آپ کو بیچنے کے لئے بازار لے کر آیا جب کوئی بھی شخص آپ کو خریدنے کے لئے آتا آپ اس سے پوچھتے تم مجھے کس کام کے لیے لینا چاہتے ہو ہر کوئی اپنا مقصد بیان کرتا جیسے ہی وہ آپ کو اپنا مقصد بیان کرتا آپ سے کہتا اس کام کے لئے لے کر جانا چاہتا ہوں غلام بنانا چاہتا ہوں آپ کو خریدنا چاہتا ہوں تو آپ کہتے تو مجھے نہ خریدو تو بہتر ہے آپ ایسے غلام تھے جن پر کسی آقا کی زبردستی نہیں چل سکتی تھی لیکن آپ اپنی مرضی سے اس شخص کے ساتھ جانا چاہتے تھے

جو آپ کو صحیح مقصد کے لیے لے جانا چاہتا تھا ایک بار ایک شخص آپ کو خریدنے کے لئے آیا آپ نے سب سے پہلے پوچھا مجھ سے کیا کام لو گے کس مقصد کے لیے مجھے خریدنے آئے ہو اس شخص نے کہا میں آپ کو اپنے گھر کا چوکیدار بناؤں گا آپ نے اس سے زیادہ سوال نہیں کیے نہ اس سے زیادہ بات کی آپ سمجھ گئے اس شخص کا کیا مقصد ہے مجھے خریدنے کا آپ نے کہا ٹھیک ہے مجھے خرید لو میں آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوں چنانچہ وہ آپ کو خرید کر گھر لے گیا اب جس بستی میں اس کا گھر تھا وہاں اس کی تین بیٹیاں تھیں

جو بہت گناہگار تھیں یعنی غلط کام میں مبتلا تھیں فحش تھیں تین فاحشہ بیٹیوں کے درمیان ایک باپ تھا یہ اپنے باپ کا کہنا نہیں مانتی تھیں اس کو شک ہوا میری پیٹھ پیچھے غلط کام کرتی ہیں حرام کام کرتی ہیں تو مجھے ان کی نگرانی کے لیے کسی کو رکھنا پڑے گا کیونکہ وہ شخص زمینوں پر کھیتوں پر کام کرنے کے لئے چلا جاتا تھا اور اس کی بیٹی اس کے پیچھے ہی کام کرتی تھی

اس لیے اس نے آپ کو اپنے گھر کی نگرانی کے لیے گھر سے باہر بٹھانے کے لیے خریدا تھا ایک دن وہ جاتے وقت دروازہ بند کرکے آپ کے پاس آیا اور آپ کو پاس بٹھایا اور کہا کہ گھر میں میری بیٹیاں موجود ہیں میں نے ضرورت کی تمام چیزیں انہیں دے رکھی ہیں انہیں کھانے پینے یا کسی کام کے لیے باہر نہیں نکلنا پڑے گا اگر وہ دروازہ کھولنے کے لیے کہیں تو ہرگز نہ کھولنا یہ کہہ کر وہ چلا گیا آپ باہر بیٹھ گۓ اللہ کا ذکر کرنے لگے کچھ دیر بعد لڑکیوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا جلدی سے دروازہ کھولو انہوں نے بہت اصرار کیا آپ نے دروازہ نہیں کھولا آخر لڑکیوں نے پتھر مارمارکر آپ کو زخمی کر دیا آپ کے سر سے خون بہنے لگا آپ نے سارا خون صاف کر دیا اور شام تک دروازے پر بیٹھے رہے

لیکن دروازہ بالکل نہیں کھولا جب مالک آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں بتایا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی شکایت کی دوسرے دن لڑکیوں نے دو بار دروازہ کھولنا چاہا لیکن آپ نے انکار کر دیا انہوں نے دوبارہ وہی عمل دہرایا آپ کو پتھر مار مار کر زخمی کر دیا آپ کے سر پر پتھر لگا اور خون بہنے لگا آپنے خون کو صاف کیا آپ نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ مالک کو پتہ نہ چلے کہ اس کی بیٹیوں نے آپ کے ساتھ ظلم کیا ہے اور شام تک دروازے پر اسی طرح بیٹھے رہے جب مالک آیا تو اسے کوئی بات نہیں بتائی وہ روز آ کر پوچھتا تھا کہ بیٹیاں گھر سے باہر تو نہیں نکلیں تو آپ کہتے تھے کہ نہیں نکلیں اور نہ ہی کوئی زور زبردستی کی تو وہ گھر میں ہی رہی ہیں کچھ دن گزر جانے کے بعد ایک دن تیسری لڑکی نے کہا اللہ کی قسم اس غلام کی کیا شان ہے نہ اس نے ہمارے باپ سے ہماری شکایت کی اور نہ ہی یہ کہا کہ ہم گھر سے باہر نکلنے کے لئے اسکو کہتی ہیں اور ہم اس کو مار ہی دیتی ہیں

تجھے اللہ کا اتنا اچھا بندہ ہے اس کو دیکھ کر میرے دل کی دنیا بدل گئی ہے سچ میں میں تو بہت نافرمان ہوں وہ تو بہت اطاعت گزار ہے اللہ کا نیک بندہ ہے میں بھی ضرور توبہ کروں گی یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی جب اس نے توبہ کی تو دوسری بہن نے دیکھا میری بہن اس غلام کی وجہ سے توبہ کر رہی ہے میری بہن کتنی اچھی ہے اور میں کتنی نافرمان ہوں اب تک گناہ میں مبتلا رہی ہوں غلط کام کرتی رہی تھی اب میں توبہ کرتی ہوں کیوں نہ توبہ کرکے اللہ تعالی کو راضی کر لوں اور یہ کہہ کر اس نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر لی یہ دیکھ کر تیسری بہن نے کہا میری دونوں بہنوں اور اس غلام کی کیا شان ہے یہ دیکھ کر ان تینوں نے دیکھا دیکھی گناہوں سے توبہ کی اس تین بیٹیوں کے باپ نے حضرت لقمان حکیم کو کیوں غلام بنانا چاہا ان کو کیوں خرید کر چوکیدار بنایا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اللہ تعالی کے نیک بندے ہیں اللہ کے نیک بندے کی صحبت میں ایک بدکردار فاحشہ عورت بھی اللہ والی بن سکتی ہے ان کو یقین تھا میری بیٹیاں مجھ سے نہیں سدھریں گی میری پیٹھ پیچھے گناہ کرتی ہیں لیکن اللہ کے نیک بندے کی نظر سے یہ بدل جائیں گی

صرف کچھ دنوں میں جوان بیٹیوں کا حال ہوا آپ اتنی نیک بن گئیں حضرت حکیم لقمان کی تاریخ کا ذکر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کون سی چیز تھی جس نے ان تینوں فاحشہ بہنوں کو اللہ تعالی کی طرف متوجہ کیا حضرت لقمان حکیم فرماتے ہیں میں نے اپنی زندگی میں مختلف لوگوں کا علاج کیا مگر اس طویل عرصے میں میں نے دیکھا کہ انسان کے لئے سب سے بہترین دو محبت اور عزت ہے کسی نے پوچھا ایسا کرنے سے آرام نہ ملے تو پھر کیا کرنا چاہیے آپ مسکرائے اور بولے دوا کی مقدار بڑھا دو اللہ نے ان تینوں بہنوں کو عزت دی ان سب کو لوگ بدکردار سمجھتے تھے ان کے باپ نے انہیں گھر میں بند کرکے چوکیدار بھی بٹھا کر دیا لیکن آپ نے صرف ان کو عزت دے کر ان کا چرچا نہیں کیا اس طرح اللہ تعالی گناہگاروں کے دلوں کو بھی بدل دیتا ہے انسان کیسا ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے اور کسی نیک بندے کی وجہ سے کس کا دل بدل جائے وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے یہ اللہ بہتر جانتا ہے

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *