ایک بیوی جو شوہر کے بغیر راتیں گزارتی تھی

شادی شدہ اپنے شوہر کے بغیر کتنی دیر صبر کر سکتی ہے ۔ جلال الدین ؒ نے حضرت ِ عمر ؓ کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے تو گھر سے ایک عورت کی آواز آ رہی تھی اور وہ کچھ پڑھ رہی تھی مفہوم یہ تھا کہ شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اس کے فراق میں غم زدہ تھی حضرت عمر فاروقؓ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنے دن تک صبر کر سکتی ہے۔

کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا تین سے چار ماہ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جا ئے تا کہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر چار ماہ تک شوہر عورت کا حق ادا نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خلا ء کا مطالبہ کر ے یا اس صورت میں ہے جب عورت راضی نہ ہو اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ عورت کو راضی رکھے اور ہو سکے تو سال میں ضرور اپنے گھر کا چکر لگا ئے اگر ممکن ہو تو عورت کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔

باہمی رضامندی سے اگر زیادہ وقت دور رہ سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر فتنے کا خ وف ہے تو رضامندی بھی فائدہ ہے کیونکہ زیادہ دیر گھر واپس نہ آنا بہت سے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ عورت کو راضی رکھے اور ہو سکے تو سال میں ضرور ایک دفعہ گھر کا چکر ضرور لگا ئے اگر ممکن ہو تو عورت کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔ عمومی طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنے گھر سے باہر جا تے ہیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔

اس وجہ سے ان کی شادی شدہ زندگی تباہی و ب رب ادی کے دہانے پر آکر کھڑی ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف اپنے اہل و عیال خصوصاً اپنی بیوی کا خیال نہ رکھنا ہے اور اس کے ازدواجی حقوق پورے نہ کر نا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو اور بہتری کی صورت رہے تو کوشش کیجئے کہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ رکھیے

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *