ایسی کھیر جو عورت کو ہمیشہ جوان رکھتی ہے ،جسمانی درد اور تھکاوٹ دور کرتی ہے ۔

اس تحریر میں آپ کو کوکونٹ کھیر بنانے کا طریقہ بتایا جارہا ہے یہ کھیر خصوصا ان خواتین کے لئے ہوگی جن کو وائیٹ ڈسچار ج کا بہت زیادہ مسئلہ ہوتا ہے اور وائیٹ ڈسچارج کا مسئلہ ہونے کی وجہ سے ان کی صحت نہیں بن پاتی تو ایسی خواتین اور ایسی لڑکیا ں جو کہتی ہیں کہ ہماری کمر میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے اور جسمانی طور پر وہ بہت زیادہ تھکاوٹ کا شکار رہتی ہیں ایسی خواتین یا ایسے بچوں کو اس کا استعمال کرواسکتے ہیں ۔

آپ نے لینا ہے کوکونٹ کا ایک چھوٹا سا پیس اور ان کو ایک رات کے لئے پانی میں بھگو دیں دوسرے دن اس کو کدو کش کرلیجئے باریک والا کدوکش لیجئے اس کے بعد آپ نے اس کے اندر ایک کپ کے قریب دودھ لیجئے اور پھر آپ نے اس کو چولہے پر رکھ دینا ہے اور آنچ جلا لینی ہے اور اتنی دیر تک پکائیں کہ یہ تھک سی کھیر تیار ہوجائے

تو پھر اس میں اپنے ذائقے کے مطابق چینی شامل کیجئے اور اسکو ایک سے دو ابال مزید آنے دیں جب آپ کو لگے کہ یہ تھک ہوگئی ہے تو آپ اس کو اتار لیجئے جیسے ہی یہ نیم گرم ہوجائے تو آپ کو لگے گا کہ یہ مزید تھک ہوجائے گا اس کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے اور ایسی لڑکیوں کے لئے بہت مفید ہے جن کو وائیٹ ڈسچارج ہوتا ہے۔اسکی علامات ہر خاتون میں مختلف ہوسکتی ہیں

لیکن بعض میں ایک ساتھ کئی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔جو مندرجہ ذیل ہیں۔اندام نہانی سے سفید یاپیلا اوربدبودارمادہ کااخراج،پنڈلیوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد،پیٹ کے حصے میں بھاری پن،سستی اور کاہلی،اندام نہانی میں خارش،قبض،بار بار سردرد، عمل انہضام کے مسائل،چڑچڑاپن،آنکھوں کے نیچے جلد پر کالے پیچزعام علامات ہیں۔

نامناسب طرز زندگی اور غیر متوازن کھانے کی عادات،رحم کے نچلے گردن نما حصے کاورم، ہارمونل عدم توازن،جینیٹل زخم جو اضافی کھجلی کاسبب بنتے ہیں۔نامناسب جینیٹل ہائیجین،بیکٹیریل اورفنگل انفیکشن،بدہضمی،قبض ،خون کی کمی،ذیابیطس ،کثرت حیض،کشیدگی اور تشویش ،نوجوان لڑکیوں میں یہ حیض شروع ہونے کے ایک سال پہلے یاایک سال بعد ہوسکتا ہے۔بہت سی خواتین ڈلیوری  کے بعد اس مرض کاشکار ہوجاتی ہیں۔اسطرح کے معاملات یوٹرائن انفیکشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اندام نہانی میں سوزش بھی اسکاسبب بنتی ہے۔اسکے لئے فوری طور پر طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دیگر بیماریوں اور انفیکشن سے بچاجاسکے۔یہ مرض اچانک شدت اختیار نہیں کرتا۔لیکوریاخواتین کے تولیدی نظام میں ایک یاایک سے زائد اعضاء کو متاثر کرسکتاہے۔ جسم میں ٹاکسن کاجمع ہوناغیر معمولی نہیں ہے یہ خواتین میں جینیٹل نظام میں ٹاکسک حالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔جو ناقص اور غیر متوازن غذا کے سبب ہوتاہے۔جب باڈی آرگن جیسے گردے،آنتیں اور جلد جسم سے ان ٹاکسن کو نکالنے میں ناکام ہوتی ہیں

تو نتیجے کے طور پر جسم ان ٹاکسن کو اندام نہانی سے ڈسچارچ کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتاہے۔دائمی لیکوریاکی صورت میں سفید،پیلا یہاں تک کہ پیپ کے ہمراہ بھی ڈسچارج جاسکتاہے۔اس مرض کی علامات کی نشاندہی ہی اس کے علاج میں پہلاقدم ہے۔ڈاکٹر اس مرض کی وجہ کے مطابق ادویات تجویز کرتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ اس مرض کاگھریلوعلاج بھی محفوظ طریقے سے کیاجاسکتاہے۔ان میں سے کوئی بھی ایک طریقہ علاج جو آپ آسانی سے کرسکیں اپنائیں ۔کیلااس مرض میں مفید ہے کیلاکھاکر دودھ میں شہد ملاکرپیئیں۔یا ایک کیلاپر چند قطرے اصلی گھی یاصندل کی لکڑی کاتیل لگاکر صبح وشام دس دن تک استعمال کرسکتی ہیں۔

اگر یہ بھی مشکل ہوتو صرف دوکیلے اور تین چمچ شہد ملا کرکھالیں۔بھنے ہوئے چنے،مصری یاگڑ، تھوڑاساچندیاگوندھ،اور چند دانے چھوٹی الائچی باریک پیس کر شیشے کی بوتل میں رکھ لیں اور ایک چمچ صبح اور ایک چمچ سونے سے پہلے کھالیں۔مرض کی شدت میں دو چمچ کھاسکتی ہیں۔چار گلاس پانی میں دو سے تین چائے کے چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹے تک پکاکرچھان کرپی لیں۔را ت میں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ ثابت دھنیا بھگودیں۔اور صبح خالی پیٹ پی لیں بہترین نتائج کے لئے ایک ہفتہ تک استعمال کریں۔

اسکے علاوہ کرین بیری کے جوس کااستعمال بھی مفید ہے۔زیرہ بھون کر اگر خالی نہ کھایاجائے تو تھوڑی سی چینی ملاکر کھالیں۔تلسی کے پتوں کارس اور شہد ہم وزن ملاکر صبح وشام پینے سے فائدہ ہوتاہے۔اگر شہد نہ ہو تو مصری لے سکتی ہیں۔دس گرام سونٹھ ایک گلاس پانی میں ڈال کراتناپکالیں کہ ایک چوتھائی پانی رہ جائے ۔چھان کر پی لیں تین ہفتے تک استعمال کریں۔سوگرام مونگ توے پر بھون کر پیس کر شیشی میں بھر کررکھ لیں۔روزانہ ایک کپ پانی میں آدھاکپ چاول بھگودیں۔پانی چھان کر ایک چمچ مونگ کاپاؤڈرحل کرکے روزانہ ایک بار پی لیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *