اگر بیوی قربت کے موڈ میں نہ ہو تو شوہر کیا کرے؟

اگر بیوی شوہر کے ساتھ سونے سے انکار کرے اور تھکاوٹ کا بہانہ کرے، اور کہے کہ ہم کل کریں گے، اور یہ کہے کہ اگر میں جانتی کہ یہ بھی شادی کا حصہ ہے تو میں شادی نہ کرتی۔ اگر شوہر اس کومجبور کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ اگر تم میری مرضی کے بغیر کرو گے تو یہ زنا بالجبر ہوگا۔ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے اور شوہر کیا کرے؟ میاں اور بیوی کے درمیان ستر کیا ہے؟ یوی کا شوہر کے ساتھ سونے سے انکار کرنا اور جب ہمبستری کے لیے بلائے تو جماع کے تحمل کی طاقت کے باوجود ٹال مٹول کرنا جائز نہیں، لھا أن تطالبہ بالوطء، لأن حلہ لھا حقھا کما حلھا لہ حقہ البتہ اگر شوہر کو بار بار جماع کا تقاضا ہو بیوی جس کی متحمل نہ ہو اور اس سے اس کی صحت کے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو شوہر کے لیے بیوی کی طاقت سے زیادہ جماعت کرنا جائز نہیں لا یحل لہ وطوٴھا بما یوٴدّي إلی إضرارھا بیوی کی بات غلط ہے،

اپنی منکوحہ سے جماع زنا نہیں ہوتی خواہ بالجبر ہی کیوں نہ ہو۔ میاں بیوی کے درمیان کوئی ستر نہیں، البتہ ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا حیا کے خلاف ہے، جس قدر ممکن ہو بچنا بہتر ہے۔ اگر میاں بیوی دونوں صحت مند ہوں اور تھکاوٹ وغیرہ نہ ہو تو بلا وجہ صحبت نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ شرعی طور پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر فریقین کا مشورہ ہو تو صحبت کرسکتے ہیں۔ اگر ایک فریق زبردستی کرے گا تو اس سے ازداجی زندگی ناخوش گوار ہوسکتی ہے۔ زوجین باہمی رضامندی سے جتنی مدت تک چاہیں ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں، اسلام نے اس سلسلے میں کوئی حدود و قیود مقرر نہیں کیے اور نہ زوجین کو مخصوص مدت کے اندر اکٹھے ہونے یا مباشرت کرنے کا پابند کیا ہے۔ زوجین ایک دوسرے جتنا عرصہ بھی دور رہیں، اس سے اُن کے رشتہ ازدواج پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شوہر اپنی بیوی کی رضامندی سے اور بیوی اپنے شوہر کی رضامندی سے جتنا عرصہ چاہے دور رہ سکتی ہے۔ لیکن اگر شوہر قسم کھا لے کہ میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا
اور پھر چار مہینے کی مدت تک ان کی صلح یا رجوع نہ ہوپائے تو ایلاء ہو جاتا ہے جس سے طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے اور رجوع کے لیے تجدیدِ نکاح لازم ہوتا ہے۔ ایلاء سے ہی استدلال کرتے ہوئے فقہاء نے فرمایا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی مرضی کے بغیر زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی مدت تک اُس سے دور رہ سکتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کر لیں تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو تو بیشک اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔درج بالا آیت سے واضح ہوا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ چار ماہ سے زائد مدت تک بیوی کے حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں تاخیر کرے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے تو ایک گھر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی اور وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی۔.

مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اسکے فراق میں غمزدہ تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔اس لیے علمائے کرام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر شوہر بغیر کسی عذر کے چار ماہ تک بیوی کے حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتا تو بیوی کو مطالبۂ طلاق اور معاملۂ خلع کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ملازمت یا روزگار کے سلسلے میں یا کسی بھی دوسری غرض سے اہلِ خانہ سے دور رہائش پذیر افراد جن کے لیے اہلِ خانہ کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں اہلِ خانہ کے پاس جائیں۔ اگر بوجوہ ایسا ممکن نہ ہو فریقِ ثانی کی رضامندی، زوجین کے فتنے میں پڑنے کا اندیشوں اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *