امام علی ؑ نے فرمایا برے خیالات ختم کرنےکا وظیفہ

آجکل لوگوں کے حالات کچھ اسطرح سے ہیں کہ ہمیشہ تفکرات اور خیالات میں گم رہتے ہیں یہ خیالات عبادات میں بھی مخل ہوتے ہیں اور یہ تفکرات زیادہ تر دنیاوی ہی ہوتے ہیں جن کے باعث ہم ہمیشہ ہی اُلجھے رہتے ہیں کسی سے سنجیدگی سے بات نہیں کرپاتے اور ہمارا مزاج بھی چرچرا ہوجاتا ہے ۔ خیالات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں چونکہ خیالات انسان کا حصہ ہیں اور انسان ہونے کے ناطے خیالات ضرور آتے ہیں لیکن خیالات بھی دو اقسام کے ہیں ایک خیالات تو وہ ہیں جو اچھے ہوتے ہیں اور اچھائی کی ترغیب دیتے ہیں دوسری قسم ان خیالات کی ہے جو بُرے ہوتے ہیں اور برائی کی ترغیب دیتے ہیں آپ کی توجہ آپ کے اصل کام سے ہٹا کر خرافات کی جانب مرکوز کرواتے ہیں۔ کچھ نوجوان اکثر یہ شکایت کرتے ہیں اور اکثر نوجوان یہ سوال کرتے ہیں جب ہم اپنے کلاس روم میں بیٹھے ہوتے ہیں

ہم کتاب کھولتے ہیں دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہوتے ہیں یہاں تک کہ کوئی بہت ہی ضروری کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں ہمارے ذہن میں بُرے خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں نوجوانوں سے پوچھا جائے کہ کیسے بُرے خیالات آتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم بتا نہیں سکتے کہ بُرے خیالات کیسے ہیں اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں گندے خیالات آتے ہیں او ر بعض اوقات تو شرم بھی آتی ہے ہمیں یہاں پر بیٹھے ہوئے ایسے خیالات کیوں آگئے بعض اوقات ہمارا لباس بھی خراب ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے بتایا کہ خیالات انسانی سوچ کا حصہ جب انسان نیند سے بیدار ہوتا اپنا کام کاج کرتا ہے تو اس کے ذہن میں خیالات ضرور آتے ہیں آپ گاڑی چلا رہے ہوں آ پ سیر کررہے ہیں ہوں یہاں تک کہ آپ کھانا کھارہے ہیں یا پھر کسی سے بات کررہے ہیں آپ کے ذہن میں خیالات ضرور آتے ہیں آپ نے خیالات جو آنا اس سے نہیں گھبرانا بلکہ بُرے خیالات کو روکنے کا طریقہ ڈھونڈنا اللہ تعالیٰ بہت احسان مند ہے بُرے خیالات پر مواخذہ نہیں کرتا جب تک کہ بُرائی کا ارتکاب نہ کرلیا جائے ۔

امام علیؑ کی خدمت میں ایک شخص آیا ہے اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی ؑ میرے دماغ میں بُرے بُرے خیالات آتے ہیں میں ایسا کیا کروں کہ میرے دماغ میں بُرے خیالات نہ آئیں یہ کہنا تھا تو امام علیؑ نے فرمایا اے شخص اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے دماغ میں بُرے خیالات نہ آئیں تو تم رزق حلال سے اپنے آپ کو بچاؤ اور بُرے خیالات کو نہ آنے کیلئے سوچو اور نہ ہی ختم کرنے کیلئے سوچو کیونکہ تمہارا بُرے خیالات کو ختم کرنے کیلئے سوچنا بھی بُرے خیالات کے وجود کو پیدا کرنا ہوگا۔ جب بھی رزق حلال تمہارے سامنے آئے تو اس میں ایک مرتبہ یا غفارُ یا رحمٰنُ یا اللہ دم کرکے کھایا کرو اللہ کے کرم سے تمہارے وجود سے بُرے خیالات ختم ہوجائیں گے ۔ امام جعفرصادق ؑ نے فرمایا جو انسان مرجان پتھر پہن کر اللہ تعالیٰ سے جو دعا مانگے چاہے اس کے مقدر میں ہو یا نا ہو اللہ تعالیٰ اسے عطاء کردے گا

About admin

Check Also

بو علی سینا اور لڑکی

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *