Breaking News

اللہ کا یہ ذکر کثرت سے کرلو

اگر کوئی مسجد آباد کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ حدیث سن لے ۔ جس مسجد میں دنیا کے تذکرے ہوں۔ جس مسجدمیں اللہ تعالیٰ کے تذکرہ کے بجائے دنیا کے تذکر ے زیادہ ہوں۔ کبھی مسجدیں آباد نہیں ہوتیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے یہ ادب سکھا یا۔ مسجدوں کو گزرگاہیں  مت بناؤ۔ ان جگہوں  کا تقدس کرو۔ مسجدوں کو بازار اور منڈیاں نہ بناؤ۔ جس طرح شور وہاں اٹھتا ہے۔ یہ مسجدوں کی شان کے مخالف ہے۔ مسجد سکون  کا گہوارہ ہوتا ہے۔ یہاں آجاؤ۔ سمجھ لو ۔ اس سے بڑا سکون کا گہوارہ اس دنیا میں کہیں  ہے ہی نہیں۔ سکون سے بیٹھنا ہے۔ تمہاری روح  سکون میں آجانی چاہیے ۔

تمہارے جسم کا انگ انگ  بھی سکون میں آجانا چاہیے ۔ کیونکہ تم اللہ کے گھر میں ہو۔ رسول اللہﷺ نے پہلا راز بیان کیا۔ اللہ کے ذکر کےلیے مسجد بنائی جاتی ہے۔ اس لیے جب مسجد میں قدم رکھو۔ پھر یاد اللہ کی آنی چاہیے ۔ پھر دنیاوی چیزوں کی یادیں نہیں آنی چاہیں۔ کبھی تو مسجد میں بیٹھ کرزندگی میں کبھی ایک مرتبہ کرکے دیکھیں ۔ لذت کیسے نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول جب بھی کسی مجلس میں بیٹھتے تو سترمرتبہ  “استغفار” اور “ت وبہ  ” کرتے۔ اور فرمایا: میں ہرروز سومرتبہ ت وبہ  کرتا ہوں۔ کبھی ہم نے اپنی زندگی میں  ایک مرتبہ ت وبہ  کی ہے ۔ یہ باتیں صرف پڑھنے کے لیے ہے۔ سننے  کےلیے ہے۔

یہ وہ راز ہے جس سے اللہ تعالیٰ تقرب کا ملتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے محبوب بنتا ہے۔ ذکر ایک ایسی نعمت  ہے جس کو نصیب ہوجائے۔ ذکر کرنے والوں سے زبان سے نکلے ہوئے کلمات کی  اللہ تعالیٰ قدر اتنی کرتے ہیں۔ اس کی دعا کو اللہ تعالیٰ ر دنہیں کرتے۔ ذکر کرنے والے کے اندر ایک ایسی روحانی طاقت ہوتی ہے۔ دنیا کی برائیاں اس سے دور ہوجاتی ہیں۔ اور شیاطین بھا گتے ہیں۔ یہ روحانیت کی مضبوطی ہی ہے۔ کہ دنیا کی سارے کے سارے فتنے  چھٹ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہوتا ہے کیونکہ حدیث نے کہہ دیا۔ جو ذکر کرلیتا ہے۔ وہ اکیلے میں بند ہوجاتا ہے وہاں پر دشمن اور ش یطان اپنے ہتھکنڈ ے استعمال کرتے ہوئے اس کو  اپنے شکنجے میں لینے پر قادرنہیں رہتے۔

About admin

Check Also

کوفہ میں ایک خوبصورت نوجوان ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتا

حضرت احمد بن سعید رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد محترم سے نقل کرتے ہیں۔ ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *